ہائیر ایجوکیشن بل ‘ ریاست کے مفادات متاثر:: کڈیم سری ہری

ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ کڈیم سری ہری نے آج یونیورسٹیوں میں متوسط اور غریب طبقہ کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں پیر کو ’’مرکزی حکومت کے ہائیر ایجوکیشن بل 2018 ‘‘ پر غورو خوض کے لئے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کڈیم سری ہری نے کہا کہ مرکز کی ہائیر ایجوکیشن بل 2018 ‘ یونیورسٹیوں کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے۔ مرکزی حکومت نے اس بل پر ریاستی حکومتوں سے اپنی آرا پیش کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا کہ اس بل کے تحت مرکزی حکومت‘ یو جی سی کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اتفاق آرا سے مسائل کو حل کرنے کے لئے یہ اجلاس طلب کیا گیا جس میں دانشوار‘ ماہرین تعلیم‘ وائس چانسلرس اور دیگر افراد شریک تھے۔ ان افراد نے اس بل پر اپنی تجاویز و آرا پیش کیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اس بل پر قطعی رپورٹ 20 جولائی کو دہلی روانہ کردی جائے گی۔ مگر مرکز کو فیصلہ کن رپورٹ پیش کرنے سے قبل اس کی چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے منظوری لی جائے گی۔ کڈیم سری ہری نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ مرکز کی ہائیر ایجوکیشن بل 2018 یونیورسٹیوں کی خود مختاری کے خلاف ہے اور یہ بل ‘ یونیورسٹیوں کی ضروریات اور عوام کی بڑی تعداد‘ غریبوں کو اعلیٰ تعلیم کے معیار پر پورا نہیں اترے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ غریبوں کو بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کا حق دیا جانا چاہئے۔ مزید فنڈس کی فراہمی کی گنجائش ہونی چاہئے اور وائس چانسلروں کے راست تقررات کی راہ ہموار ہونی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئین میں دیئے گئے ریاستوں کے حقوق پر قدغن لگانے کی کوشش سے گریز کرنے کا واضع تیقن ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی ‘ ایس ٹی کے اندراج میں تلنگانہ ‘ ملک بھر میں سرفہرست ہے۔ حکومت تلنگانہ سماجی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے مزید اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے گذشتہ 4 برسوں کے دوران تعلیم کے شعبہ کو دیئے جانے والے فنڈس میں کمی کر دی ہے جس سے کئی یونیورسٹیوں میں تقررات نہیں کئے جاسکے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ پیشرو کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش نہیں کی تھی جس کے سبب مرکزی حکومت نے اس مسئلہ پر تجاویز طلب کی ہیں‘ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت یا اس بل کے ذریعہ ریاست کے مفادات متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر کے کیشو راؤ ‘ ٹی ایس سی ایچ ای چیرمین پاپا ریڈی ‘ مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور دیگر عہدیدار شریک تھے۔

جواب چھوڑیں