جوابی بیاضوںکی آن لائن جانچ کے اقدامات۔عثمانیہ یونیورسٹی کافیصلہ۔نقائص کودورکرنامقصود

ملک کی قدیم ترین یونیورسٹیز میں شمار کی جانے والی عثمانیہ یونیورسٹی کی جانب سے پوسٹ گریجویشن امتحانات کے جوابی بیاض کی روایتی اندازمیں جانچ کے طریقہ کارکوخیرابادکرتے ہوئے آن لائن جانچ کے طریقہ کار کو اختیار کرنے کافیصلہ کیاگیا۔ اس ضمن میں یونیورسٹی کی جانب سے بیرونی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیاگیاہے جس کی رو سے کمپنی کی جانب سے جوابی بیاضات کی اسکیاننگ کے لئے بارکوڈنگ کی جائے گی جس کوایک مخصوص سرورجو یونیورسٹی کیمپس میں واقع سنٹرل فسیلیٹیز فارریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ڈاٹا سنٹر سے مربوط رہے گا‘میں اپ لوڈ کردیا جائے گا۔ ان جوابی بیاضات کی کوڈنگ اور اسکیاننگ کے بعد آن لائن کردیا جائے گا جن کا انٹرنیٹ کے ذریعہ مشاہدہ کیا جاسکے گا۔ یونیورسٹی کی جانب سے ایم بی اے سکنڈسمیسڑ کے تقریباً80,000جوابی بیاضات کوآن لائن رکھاجائے گا۔ ان جوابی بیاضات کویونیورسٹی کے حدود میں قائم آن لائن جانچ مراکز پرجانچ کے لئے رکھاجائے گا۔ جوابی بیاضوں کی جانچ کرنے والوں کو (32) صفحات پر مشتمل بیاضوں کی جانچ کے لئے خصوصی آئی ڈی اور اوٹی پی (ون ٹائم پاسورڈ) فراہم کیاجائے گا۔ جوابی بیاض کی جانچ کے بعد دیئے گئے نشانات کوآٹومیٹک طورپر گنتی کی جائے گی اوریہ نشانات مین سرور میں محفوظ کردیئے جایں گے ۔جانچ کاروں کوروزانہ 30تا 60 جوابی بیاضات کی جانچ کی ذمہ داری تفویض کی جائے گی ۔ بتایا جارہا ہے کہ آن لائن طریقہ کارکے ذریعہ جانچ کے کاموں کو کامیابی حاصل ہونے کے بعداس طریقہ کار کو دیگر پوسٹ گریجویٹس اورانڈرگریجویٹ کورسس تک توسیع دی جائے گی ۔ یونیورسٹی انتظامیہ کااحساس ہے کہ اس نئے طریقہ کارکے ذریعہ جہاں نتائج کی جلدازجلدجاری کئے جاسکیں گے وہیں دیگر نقائص کابھی خاتمہ کیا جاسکے گا۔

جواب چھوڑیں