روزانہ ہلکی بارش کی وجہ سے حیدرآباد کی سڑکوں پر گندگی اور کچرے کے انبار

خصوصی رپورٹ: ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں کوئی 12 دن سے روزانہ ہلکی بارش ہورہی ہے جس کی وجہ سے گلیوں میںاور سڑکوں پرکیچڑجمع ہوگیا ہے اور جگہ جگہ کچرے کے انبار نظر آرہے ہیں۔ کچرے کی کنڈیوں میں اور ان کے آس پاس بھی کافی کچرا دکھائی دے رہا ہے۔ آئی ٹی آئی گلڈ ملے پلی کے پاس نائیس ہاسپٹل کے روبرو سڑک پر اتنا زیادہ کچرا دکھائی دے رہا ہے جس کو دیکھ کر افسوس ہورہا ہے۔ بیمار لوگ صحت یاب ہونے کیلئے اس دواخانہ کو آرہے ہیں لیکن دواخانہ کے پاس کافی کچرا پڑا ہوا رہنے کے باعث اُن کی صحت اور متاثر ہونے کا اندیشہ لاحق ہوگیا ہے۔ تیماردار کچرے کی وجہ سے بیمار ہوسکتے ہیں اور وہ بھی اس دواخانہ کے مریض بن سکتے ہیں۔ گلڈ کے سامنے کے حصہ میں بھی کچرے کے پیاکٹس اور تھیلے پڑے ہوئے ہیں۔ چکن مارکٹ نامپلی کے پاس لکڑی کی ٹال کی گلی میں اور آس پاس کی سڑکوں پر بھی کافی کیچڑ جمع ہوگیا ہے اور کچرا دکھائی دے رہا ہے۔ نامپلی ریلوے اسٹیشن کے پاس جو گندگی ہے اسے دیکھ کر اور بھی زیادہ تکلیف ہورہی ہے اور لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ حیدرآباد کی سیر کیلئے ہندوستان کے مختلف حصوں اور بیرونی ممالک سے آنے والے سیاح اسٹیشن کے پاس گندگی کو دیکھ کر کیا تاثر لے کر واپس ہورہے ہوں گے۔ شہر کے مختلف محلہ جات میں سڑکوں پر کیچڑ اور کچرے کے انبار کی وجہ سے مچھروں کی کثرت ہوگئی ہے اور مکھیاں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ جس کے باعث شہر میں ملیریا اور ڈینگو جیسے امراض کی وباء پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ ممبئی اور کولکتہ میں بلدیہ کے ملازمین فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے برسات کے موسم میں بھی نالوں جیسی موریوں میں اتر کر گندگی کی صفائی کرتے ہیں لیکن حیدرآباد کے بلدیہ کے ملازمین برسات کے شروع ہوجانے سے اپنے فرض سے غافل ہوجاتے ہیں اور سڑکوں پر بھی گندگی کو صاف کرنے اور کچرا اٹھانے کی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ جس کے باعث شہر کے مختلف محلہ جات میں گندگی اور کچرے کے انبار دکھائی دے رہے ہیں جس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جی ایچ ایم سی کے ملازمین ہڑتال پر ہیں اور وہ کچرے کی صفائی نہیں کررہے ہیں۔ اگر بارش 24 گھنٹے بھی موسلا دھار اور شدید نوعیت کی ہوتی تو شہر کی سڑکوں سے گندگی بہہ کر چلی جاتی اور سڑکیں صاف ہوجاتیں۔ شدید بارش سے مچھر بھی مر جاتے اور مکھیاں بھی پیدا نہیں ہوتیں۔ مگر ہلکی بارش کی وجہ سے سڑکوں پر گندگی پھیلی ہوئی ہے اور کچرے کے انبار دکھائی دے رہے ہیں۔ حیدرآباد کے میئر بی رام موہن اور جی ایچ ایم سی کے کمشنر این جناردھن ریڈی کو چاہئے کہ وہ بلدیہ کے عہدیداروں کو فوری طور پر یہ ہدایت دیں کہ وہ ملازمین و مزدوروں کو متحرک کرتے ہوئے انہیں سڑکوں سے گندگی کو صاف کرنے اور کچرے کے انبار کو اٹھانے کیلئے جنگی خطوط پر کام کرنے کے پابند کریں۔ ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سڑکوں پر گڑھے ہوجانے پر جس طرح ان کی تصاویر لیتے ہوئے وزیر بلدی نظم ونسق کے ٹی رامارائو کے ٹوئیٹر پر پوسٹ کئے تھے اسی طرح شہر کی سڑکوں پر گندگی اور کچرے کے انبار کی تصاویر لیتے ہوئے ان کو وزیر موصوف کے ٹوئیٹر پر پوسٹ کریں تاکہ کے ٹی آر نے ان کے اس سے پہلے کے ٹوئیٹ پر توجہ دیتے ہوئے جس طرح عہدیداروں کو سڑکوں پر گڑھے بند کرنے کی ہدایت دی تھی اسی طرح ان کے نئے ٹوئیٹ پر جو وہ دے سکتے ہیں توجہ دیتے ہوئے سڑکوں پر گندگی کو صاف کرنے اور کچرے کے انبار کو اٹھانے کیلئے عہدیداروں کو ہدایت جاری کریں۔ ہم حیدرآباد کے شہریوں سے بھی یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ شہر کو خوبصورت اور پاک وصاف رکھنے کیلئے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ اس خصوص میں جی ایچ ایم سی کے ملازمین کے ساتھ تعاون کریں اور سڑکوں پر کچرے کے پیاکٹس اور تھیلے نہ ڈالیں۔ وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ گندگی اور کچرے کے انبار سے مچھروں اور مکھیوں کے پیدا ہونے سے خود ان کی صحت خراب ہوسکتی ہے اور وہ بیمار ہوسکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں