سوامی اگنی ویش کا حملہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

سماجی کارکن سوامی اگنی ویش نے چہارشنبہ کے دن مطالبہ کیاکہ ان پر مشتبہ دائیں بازو کارکنوں کے حملہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حملہ منصوبہ بند تھا۔ اگنی ویش نے رانچی میں میڈیا سے کہا کہ مجھ پر حملہ منصوبہ بند تھا۔ میرے پروگرام کی جانکاری پاکر ضلع نظم ونسق کو دی گئی تھی لیکن اس نے کوئی سیکیوریٹی فراہم نہیں کی۔ حکومت اگر تحقیقات چاہتی ہے تو اسے عدالتی تحقیقات کا حکم دیناچاہئیے تاکہ خاطیوں کو سزا ملے۔ پریس کانفرنس میں کانگریس قائد اور سابق مرکزی وزیر سبودھ کانت سہائے اور سابق چیف منسٹر وجھارکھنڈ وکاس مورچہ پرجاتنترک قائد بابولال مرانڈی موجودتھے۔ سوامی اگنی ویش نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ جھارکھنڈ یا مرکزی حکومت تحقیقات کرائے گی۔ واقعہ کے سلسلہ میں گرفتارلوگ رہاکردئیے گئے۔ اس سے حکومت کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔ بی جے پی اور آرایس ایس بھگوان رام کا نام بدنام کررہی ہیں۔ ہمارا ہندومذہب، تشدد کی تعلیم نہیں دیتا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ملک میں قبائیلیوں اور دلتوں کی حالت خراب ہے۔میں نے دلتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے پروگرام شروع کیا۔ پروگرام میں لگ بھگ 25ہزٓر دلتوں کی شرکت کی توقع تھی لیکن ایک لاکھ سے زائد لوگ آئے۔ اتنے بڑے مجمع کے باوجود کوئی سیکیوریٹی انتظامات نہیں کئے گئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت میرا صفایا چاہتی تھی۔ جئے شری رام کا نعرہ لگانے والوں نے منگل کے دن سوامی اگنی ویش کو حملہ کرکے زخمی کردیاتھا۔ یواین آئی کے بموجب سوامی اگنی ویش پر حملہ کے معاملہ میں 8افراد بشمول ضلع صدربھارتیہ جنتایوا مورچہ کے خلاف آج ایف آئی آر درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں بی جے پی کسان مورچہ کے ریاستی سکریٹری آنندکمارتیواری، بی جے وائی ایم کے ضلع صدر پرسننامشرا، بی جے پی ورکرس گوپی دوبے، بلرام دوبے،اشوک پرساد، شیوکمارساہا، بادل منڈل اور پنٹومنڈل کے نام شامل ہیں۔ آفیسر انچارج ٹاؤن پولیس اسٹیشن شیوشنکرتیواری نے بتایاکہ ان 8 ملزمین کے علاوہ 92 ایسے ملزمین بھی ہیں جن کا نام نہیں لیاگیا ہے۔ پاکُر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس نے ایس ڈی پی او کی قیادت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو خاطیوں کو گرفتارکرنے دھاوے کررہی ہے۔

جواب چھوڑیں