ششی تھرور کے دفتر پر حملے کی لوک سبھا میں گونج

کانگریس رکن ششی تھرور کے ترواننتا پورم میں واقع دفتر پر حملہ کا مسئلہ آج لوک سبھا میں نمایاں طور پر اٹھایا گیا۔ ششی تھرور نے وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیر کے روز کیا گیا حملہ ہندوستان کے نظریے پر حملہ تھا اور جمہوری اصولوں کی پامالی تھی۔ ان کے چند ریمارکس پر بی جے پی ارکان برہم ہوگئے۔ شور و غل کے دوران بی جے پی ارکان بشمول جگدمبیکا پال کے چند ریمارکس سنے نہیں جاسکے ۔ سی پی آئی ایم ارکان جن میں بیشتر کا تعلق کیرالا سے ہے ، اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بی جے پی کے خلاف نعرے لگائے ، جس کی وجہ سے ایوان میں کچھ دیر کے لیے افراتفری مچ گئی۔ وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے کہا کہ ترواننتا پورم کے رکن بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں اور نشاندہی کی نظم و ضبط ریاستی موضوع ہے اور سی پی آئی ایم حکومت کو مناسب تحقیقات کرانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سارا کیرالا اس بات سے واقف ہے کہ یہ کام کس نے کیا ۔ بی جے پی اور اس کے کارکنوں کو ایسے واقعات کے لیے موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ کانگریس کے فلور لیڈر ملک ارجن کھڑگے بھی اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور واقعہ کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ڈپٹی اسپیکر ایم تھمبی دورائی نے برہم ارکان کو تسلی دی اور کہا کہ یہ واقعہ بدبختانہ ہے اور ایوان اور اس کے ارکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیگر ارکان کا تحفظ کریں۔ اسی دوران سی پی آئی ایم ارکان بطورِ احتجاج ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ ششی تھرور نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور ایسے ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔ سیاسی کارکنوں نے آج کانگریس رکن کے ’’ہندو پاکستان‘‘ تبصرہ پر ترواننتا پورم میں احتجاج کیا ۔ ششی تھرور نے گذشتہ ہفتہ یہ کہتے ہوئے ایک بڑا تنازعہ پیدا کردیا تھا کہ اگر بی جے پی ، 2019ء میں اقتدار پر واپس ہوتی ہے تو ملک ’’ہندو پاکستان‘‘ میں تبدیل ہوجائے گا۔

جواب چھوڑیں