طلاقِ ثلاثہ کیخلاف مہم چلانے والی خاتون کے حق میں عدالت کا فیصلہ

 طلاقِ ثلاثہ کے خلاف ایک خاتون کی مہم کو آج تقویت حاصل ہوئی ۔ ایک مقامی عدالت نے ندا خان کے شوہر شیران رضا خان کی درخواست مسترد کردی ، جنہوں نے اپنے اور اپنے ارکانِ خاندان کے خلاف ہراسانی و گھریلو تشدد کے ایک کیس کو اس بنیاد پر چیلنج کیا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی طلاق دے دی ہے۔ اے سی جے ایم (فرسٹ) سیا رام چورسیا نے آج اپنے فیصلہ میں کہا کہ طلاق دینے ، مہر اور دیگر رقم کی ادائیگی کے باوجود شیران رضا خان اور ان کے ارکانِ خاندان کے خلاف ہراسانی و گھریلو تشدد کا کیس برقرار رہے گا۔ عدالت نے اس معاملہ کی مزید سماعت 27 جولائی کو مقرر کی ہے۔ خاتون ندا خان نے اپنے سابق شوہر ، سسرالی ارکانِ خاندان عثمان رضا خان عرف انجم میاں ، ان کی اہلیہ شمی اور بہنوئی ایکان رضا خان کے خلاف گھریلو تشدد کا فوجداری مقدمہ دائر کیا تھا۔ ندا نے عدالت میں اپنی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ سسرال والوں نے اسے مار پیٹ کرتے ہوئے گھر سے نکال دیا تھا ۔ اس نے یکمشت تصفیہ کے لیے 15 لاکھ روپئے کی ادائیگی اور اخراجات کے لیے ماہانہ 19 ہزار روپئے گذارہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گذشتہ ہفتہ ایک مقامی مفتی خورشید عالم نے ندا خان کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کوئی دوا ، دعا اور قبر کی جگہ نہیں دی جانی چاہیے۔ ندا خان ، نکاحِ حلالہ کے خلاف بریلی میں ایک ایف آئی آر درج کرانے ایک خاتون کے ساتھ پولیس اسٹیشن گئی تھیں ، جس کے بعد یہ فتویٰ جاری کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں