مانسون اجلاس میں ہجومی تشدد کیخلاف جامع قانون سازی کی جائے : سی پی آئی ایم

سی پی آئی ایم نے آج مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کے جاریہ مانسون اجلاس میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کے خلاف ایک جامع قانون سازی کی جائے ، تاکہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی تعمیل ہوسکے ۔ سپریم کورٹ نے کل پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ وہ ہجومی تشدد کے واقعات سے مؤثر طور پر نمٹنے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرے اور کہا تھا کہ ہجومی تشدد کی خوفناک حرکتوں کو ایک نیا قاعدہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ پارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی تعمیل کرتے ہوئے سی پی آئی ایم پولیٹ بیورو مطالبہ کرتی ہے کہ پارلیمنٹ کے جاریہ مانسون اجلاس میں جامع قانون سازی کی جائے ، تاکہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی تعمیل ہوسکے ۔ مملکت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ نظم و ضبط کی برقراری کو یقینی بنائے تاکہ سیکولر اقدار کا تحفظ ہوسکے اور ہجومی تشدد کو روکا جاسکے ۔ جھارکھنڈ میں کل سوامی اگنی ویش پر بربری حملے کی مذمت کرتے ہوئے بائیں بازو کی جماعت نے ان اندیشوں کا اظہار کیا کہ اگرچہ کہ خاطیوں کی بی جے پی یووا مورچہ حامیوں کی حیثیت سے شناخت ہوگئی ہے ، لیکن توقع ہے کہ بی جے پی کی ریاستی حکومت ان کے ساتھ انتہائی رحمدلی اور نرمی کا سلوک کرے گی۔ پارٹی نے اگنی ویش کو مناسب طبّی دیکھ بھال فراہم کرنے اور خاطیوں کو فوری سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا ۔ اس نے الزام عائد کیا کہ شناخت ہوجانے کے باوجود بھی خاطیوں کو سزا نہ دیا جانا آر ایس ایس اور بی جے پی کی سرپرستی کی زبردست ترجمانی کرتا ہے۔ سی پی آئی ایم نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی زیرقیادت حکومت کی زیرنگرانی ہجومی تشدد اور خانگی فوج رکھنے جیسے جرائم کی کھلی اجازت دی جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں