منڈیلا کی صد سالہ سالگرہ تقریب، اوباما کا خراج عقیدت

جوہانسبرگ کے کرکٹ گراؤنڈ میں سابق امریکی صدر بارک اوباما کا خطاب سننے کے لیے، کم از کم 14000جنوبی افریقی جمع تھے۔ وہ نسلی عصبیت کے خلاف جدوجہد کرنے والے مثالی شخص نیلسن منڈیلا کی صد سالہ سالگرہ کی تقریب میں شریک تھے۔اپنے خطاب میں، سابق امریکی صدر بارک اوباما نے اجتماع کو بتایا کہ ’’دیکھتے ہی دیکھتے سیاست میں مردِآہن کا نیا روپ سامنے آیا ہے۔ اس میں انتخابات ہوتے ہیں اور جمہوریت کو قائم رکھا جاتا ہے۔ لیکن، حکمران ہر اْس ادارے اور معیار کو نقصان پہنچاتا ہے جو جمہوریت کے مطلب کی تشریح ہوا کرتی ہے‘‘اوباما سولہویں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر سے مخاطب تھے۔ سنہ 2017میں آٹھ برس عہدہ صدارت کی تکمیل کے بعد اْن کی جانب سے کسی اہم تقریب میں یہ پہلی شرکت تھی۔اوباما نے 2005 میں کچھ لمحات کے لیے منڈیلا سے ملاقات کی تھی، جس کے تین سال بعد وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے تھے۔ 2013 میں منڈیلا کی سوانح عمری پر ہونے والی تقریب کے دوران اْنھوں نے جذباتی قصیدہ گوئی سے کام لیا تھا۔ 1990میں رہائی پانے سے قبل، منڈیلا 27 برس تک قید رہے، جو جنوبی افریقہ کا اقلیت کے خلاف سخت ترین دور تھا؛ جب کہ چار سال بعد وہ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے، جب جنوبی افریقہ میں پہلی مرتبہ کثیر نسلی انتخابات منعقد ہوئے۔جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر اور ملک میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی علامت سمجھے جانے والے رہنما نیلسن منڈیلا کی خصوصی معاون زیلڈا لا گرینج نے انکشاف کیا کہ نیلسن منڈیلا کے متعدد فلاحی کاموں میں سعودی عرب نے بڑھ چڑھ کر مدد کی اور انہوں نے ریاض کے تقریباً 8 دورے کیے۔
عرب نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق نیلسن میڈیلا کے ساتھ 19 برس گزارنے والی پرسنل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’نیلسن منڈیلا کے شاہی خاندان سے گہرے تعلقات تھے جبکہ ان کے مرحوم شاہ فہد، ان کے تخت نشین عبداللہ، شہزادہ بندر بن سلطان اور ان کے قریبی رشتے داروں سے براہ راست تعلقات تھے‘

جواب چھوڑیں