گولان پہاڑیوں کے قریب باغیوں کے ٹھکانوں پر شام کا قبضہ

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز نے ملک کے جنوب مغرب میں باغیوں کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے فوجی اہمیت کی ایک چوٹی تل الحارہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں سے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ سرکاری فورسز کی اس پیش قدمی کے بعد ملک میں سات سال سے جاری خانہ جنگی اب اسرائیل کی دہلیز کے قریب پہنچ گئی ہے جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنی فوٹیج میں سرکاری فورسز کو اس علاقے میں سب سے اونچی چوٹی پر قومی جھنڈا لہراتے ہوئے دکھایا ہے جہاں سے 1974 کی حدبندی لائن اور اسرائیل کے زیر قبضہ گولان ہائٹس نظر آتی ہیں۔ تل الحارہ کی چوٹی، جو سطح سمندر سے 1100 میٹر بلند ہے، 2014 سے جبہتہ النصر گروپ کے کنٹرول میں چلی آ رہی تھی۔ اس چوٹی پر سے اردن اور اسرائیل کے الجلیل کے علاقے دکھائی دیتے ہیں۔ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ سرکاری فوجی جبہتہ النصر کے استعمال میں رہنے والے زیر زمین بینکرز کے سامنے کھڑے ہیں۔ کنکریٹ کے تختوں اور سمنٹ کے ٹوٹے ہوئے حصوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ میزائلوں نے کس مقام پر ان بینکروں کو نشانہ بنایا تھا۔تل الحارہ کے قریب واقع قصبوں المال اور تل المار کے رہائشیوں نے شام کے فوجیوں کی آمد پر خیرمقدمی نعرے لگائے۔ایک سرکاری تجزیہ کار محمد داہر نے دعویٰ کیا کہ دونوں قصبوں کے رہائشیوں نے عسکریت پسندوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا ہے تا کہ وہ جان اور مال کے تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر سکیں۔حال ہی میں آزاد ہونے والے قصبے المال کے لوگوں نے شکایت کی ایک قریبی قصبہ ابھی تک باغیوں کے کنٹرول میں ہے اور وہ وہاں سے رات بھر ان پر راکٹ فائر کرتے ہیں جس سے ان کے گھروں اور بہت سی گاڑیوں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ایک بوڑھی خاتون کا کہنا تھا کہ گولے گرنے اور دھماکوں کی آوازوں سے وہ رات بھر سو نہیں سکی۔ ہر چیز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے توقع ہے کہ یہ مشکل گھڑیاں بھی جلد کٹ جائیں گی۔امریکن یونیورسٹی بیروت میں پولیٹیکل سائنس کے ایک پروفیسر ہلال خاشان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ امریکہ، روس اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے ایک حصے کے طور پر شام کی فورسز کو گولان ہائٹس کے قریب واقع دیہات اور قصبے کا قبضہ واپس لینے کی اجازت دے گئی ہے۔

جواب چھوڑیں