ہلدی اور مرچ کی پیداوار، تفصیلی رپورٹ اندرون15 یوم پیش کی جائے :چیف سکریٹری ایس کے جوشی

چیف سکریٹری ڈاکٹر ایس کے جوشی نے سائنسدانوں، کسانوں اور تاجروں سے مرچ اور ہلدی کی پیداوار کے تعلق سے تفصیلی رپورٹ اندرون15 یوم طلب کی ہے ۔ چیف سکریٹری نے اسپائس ڈیولپمنٹ ایجنسیز کے ساتھ سکریٹری زراعت پارتھا سارتھی، کمشنر وینک رام ریڈی، ڈپٹی ڈائرکٹر اسپائس بورڈ جی لنگپا ، مرکزی حکومت کے عہدیدار ستیم شاردا، کے علاوہ رامنا ریڈی، جی سدھاکر، ایم جتیندر، اور دیگر کسانوں کے ساتھ آج سکریٹریٹ میں ایک جائزہ اجلاس طلب کیا تھا ۔ چیف سکریٹری ایس کے جوشی نے کہا کہ ریاست کے70 لاکھ کسانوں نے1.10 لاکھ ہیکٹر پر ہلدی کی کاشت کی ہے جبکہ کھمم، نظام آباد، ورنگل ، جگتیال، جئے شنکر بھوپال پلی، محبوب آباد اور بھدرادری بھونگیر اضلاع میں1.40 لاکھ کسانوں نے مرچ کی فصل بوئی ہے ۔ انہوںنے ان عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ ان علاقوں کے کسانوں کو فائدہ پہنچانے پر توجہ دیں۔ عہدیداروں کو ہلدی اور مرچ کسانوں کیلئے علیحدہ خصوصی کارڈز تیار کرنے ، انہیں تربیت فراہم کرنے اور ان کاشتکاروں کو صدفیصد ڈرپ اریگیشن کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے تین یا ساڑھے تین سالوں کیلئے کراپ ڈیولپمنٹ، انٹیگریٹیڈ پسٹ مینجمنٹ، مارکٹ لیزس، پرائس پراڈکٹس کے بارے میں ایک روڈ میاپ تیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت ضروری ان پٹس فراہم کیا جانا چاہئے ۔ ہلدی اور مرچ کی پیداوار میں اضافہ کیلئے ہارٹی کلچر یونیورسٹی سے تجاویز حاصل کی جانی چاہئے اور زرعی اور باغبانی کی سرگرمیوں میں عصری ٹکنالوجی کے استعمال اور انہیں قبول کرنے کا جائزہ لیا جاناچاہئے ۔ سکریٹری زراعت پارتھا سارتھی نے کہا کہ ریاست کے کسان، ہلدی اور مرچ کے بشمول دیگر8 اقسام کے مصالحہ جات کی کاشت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نظام آباد میں30 کروڑ روپے کے مصارف سے اسپائس پارک کی تعمیر کے کام جاری ہیں۔ اس پارک سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔

جواب چھوڑیں