ہندوستان‘ تیل کی قلت کے تعلق سے پریشان نہ ہو: احمدالبنا

ایران پر امریکی تحدیدات سے ہندوستان کی توانائی سلامتی خطرہ میں پڑگئی ہے ایسے میں متحدہ عرب امارات کے سفیر معینہ نئی دہلی احمدالبنا نے تیل کی قلت کے اندیشے دور کئے اور کہا کہ ایران سے سپلائی کی درہم برہم ہونے کی صورت میں ان کا ملک اور سعودی عرب کمی پوری کردیں گے۔ البنا نے نئی دہلی میں آئی اے این ایس کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں مانگ اور سپلائی کا قانون قیمت طئے کرتا ہے۔ ان سے ہندوستان میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے بارے میں پوچھاگیاتھا۔ انہوں نے کہ کہ وہاں پیداوار اہم ہے۔ پیداوار‘ دنیاکی کھپت کے لئے کافی ہونی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ بعض آرگنائزیشن آف پٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز(اوپیکس) ممالک اور غیر اوپیک ممالک کو درپیش چیالنجس کے باعث صارف ممالک کو بیشتر مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ جاریہ سال نومبر میں ایران پرامریکی تحدیدات عائد ہوناطئے ہے۔ ایسے میں ہندوستان کو تیل کی قلت کا تعلق سے اندیشہ مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایران، ہندوستان کو خام تیل سپلائی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ وہ ہندوستان کو یومیہ 4لاکھ 25ہزار بیرل سے زائد تیل سربراہ کرتا ہے۔ ہندوستان، ایران کی تیل اور گیس صنعت میں ایک بڑا بیرونی سرمایہ کار ہے۔ البنا نے کہا کہ کئی برس قبل ایران پر تحدیدات کے دوران سپلائی کچھ متاثر ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، اصلاح احوال کا اہل تھا۔ قلت کے وقت اس نے ہندوستان کو سپلائی دی تھی۔ میرے خیال میں اس بار بھی دسمبر میں ایسا ہی ہوگا۔ امارتی سفیر نے کہا کہ ہندوستان کے تعلقات، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عراق سے عمدہ ہیں ۔متبادل ہمیشہ موجود ہے۔ مہاراشٹرا میں 44بلین امریکی ڈالر کے رتناگری ریفائنری اینڈ پٹروکیمیکلس کامپلکس میں ابوظبی نیشنل آئیل کمپنی (اڈناک) اور سعودی آرامکو کی مشترکہ سرمایہ کاری کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یہ سہ ملکی اہم پراجکٹ ہے۔ یہ سبھی کے لئے فائدہ مند ہے۔ متحدہ عرب امارات میں لگ بھگ 30لاکھ این آرآئیز مقیم ہیں۔البنا نے ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے عمدہ تعلقات کو اجاگر کیا اور کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی کے اگست 2015ء میں دورہ امارات سے انہیں مزید بڑھاوا ملا۔ متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کے درمیان 57بلین امریکی ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ متحدہ عرب امارات چین اور امریکہ کے بعد ہندوستان کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

جواب چھوڑیں