اسرائیل کو صیہونی مملکت قرار دینے قانون کی منظوری

اسرائیلی پارلیمنٹ نے آج اسرائیل کو یہودی عوام کی مملکت قرار دیتے ہوئے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے نتیجہ میں اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ اس اقدام سے عرب شہریوں کے خلاف صریح امتیازی رویہ اختیار کیا جائے گا۔ عرب قانون سازوں اور فلسطینیوں نے قانون کو نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک قانونی نوعیت کا نسلی امتیاز ہے جس پر پارلیمان میں پُر شور مباحث بھی ہوئے۔ 55کے مقابلے میں 62ووٹوں کی اکثریت سے اس قانون کو منظور کیا گیا جس کے نتیجہ میں عبرانی کو ملک کی قومی زبان قرار دیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ اس وقت بسائی جانے والی صیہونی بستیوں کو قومی مفاد سے ہم آہنگ قرار دیا گیا۔ وہاں ماضی میں عربی کو سرکاری زبان سمجھا جاتا تھا جبکہ اس زبان کو صرف خصوصی موقف منظور کیا گیا۔ آج صبح منظورہ قانون میں اسرائیل کو تاریخی صیہونی وطن قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہاں پر یہودیوں کو حق خود ارادیت حاصل ہے۔ تاہم سحت متنازعہ فقرہ جسے خصوصی طورپر صرف صیہونیوں کے قیام کو قانونی قرار دیا جارہا تھا اسے تنقید کے بعد تبدیل کردیا گیا ہے جس میں اسرائیلی صدر ریون ریولن بھی شامل ہیں۔ یہ قانون ملک کے بنیادی قوانین کا حصہ بن گیا ہے جو حقیقی اعتبار سے دستور کی طرح کام کرتے ہیں۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے مسودہ قانون پر رائے دہی پر بتایا کہ اسرائیل کی تاریخ میں یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے جو ہماری زبان‘ ہمارے ترانے وپرچم کو پتھر میں تحریر کرتا ہے متعدد اپوزیشن سیاستدانوں نے رائے دہی کی مذمت کی ہے۔ سرکردہ عرب جوائنٹ لیسٹ اتحاد ایمن اودھے نے اسے اپنی جمہوریت کی موت بتایا ہے۔ عرب ارکان پارلیمنٹ جنہوں نے اس مسودہ قانون کو نسل پرستانہ قرار دیا تھا انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ نیسٹ کے چیمبر میں بل کی کاپیوں کے ٹکڑے کردئیے۔ اس سے قبل اس بل کو منظور کیا گیا تھا۔ اسرائیل کی آبادی 8ملین سے متجاوز ہے جس میں عربوں کی آبادی کا تناسب تقریباً 17.5فیصد ہے۔ عرب مدت طویل سے اپنے خلاف امتیازی رویہ کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سکریٹری جنرل صائب ارکات نے اسے ایک خطرناک اور نسل پرستانہ قانون قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سرکاری طورپر اس کے ذریعہ نسلی امتیاز کو قانون شکل دی جارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کو ایک نسل پرست نظام سیاست کی حیثیت سے دی جارہی ہے۔ نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے ایوی ڈکٹر نے یہ قانون پیش کیا جس میں یہ بتایا گیا کہ اس قانون کا مقصد اسرائیل شہریوں کی یہودیوں کی حیثیت سے جمہوری ملک کے طورپر ان کا تحفظ کرنا ہے۔ کئی سالوں سے اس قانون کی مختلف شکلوں پر مباحث جاری رہے۔ نتن یاہو حکومت جسے ملک کی تاریخ میں دائیں بازو کی انتہا پسند حکومت سمجھا جاتا ہے اس نے پارلیمنٹ کے گرمائی اجلاس کے اختتام سے قبل اس کی منظور پر اصرار کیا تھا۔ قانون کی منظوری سے قبل اس کے ایک فقرہ میں ترمیم کی گئی تھی جس سے اس فقرہ کے تحت حکومت کو ایسے عوام پر مشتمل ایک طبقہمنظوری کی اجازت دی جاتی جس کا مذہب اور قومیت یکساں ہو تاکہ اس طبقہ کے الگ تھلگ کردار کو برقرار رکھا جاسکے۔ صدر کی حیثیت سے ریولین کا کردار بنیادی طورپر علامتی رہا ہے۔ انہوں نے اس ماہ کے اوائل اس فقرہ پر تشویش کے اظہار کیلئے غیر معمولی طورپر مداخلت کی تھی۔ انہوں نے ایک کھلے مکتوب میں بتایا تھا کہ اس مسودہ قانون سے عالمی سطح پر یہودیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور بالخصوص اسرائیل میں اسے ہمارے دشمن ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ مرد وخواتین کو ان کے نسلی ماخذ کی بنیاد پر الگ تھلگ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کی تائید کی جائے؟

جواب چھوڑیں