برطانیہ میں ٹریسا مئے کے قتل کی سازش ‘ نوجوان پر فرد جرم عائد

برطانیہ میں ایک عدالت 20 سالہ نوجوان کو وزیر اعظم ٹریسا مئے کو قتل کی سازش کا مجرم قرار دیا ہے ۔شمالی لندن کی اولڈ بیلی عدالت نے بدھ کو نعیم الرحمن نامی اس نوجوان کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کا مجرم قرار دیا۔پولیس کے مطابق نعیم الرحمن نے لندن میں وزیر اعظم ٹریسا مئے کی سرکاری رہائش 10، ڈانگ اسٹریٹ کے گیٹ کو آئی ای ڈی بم سے اڑانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ نعیم الرحمن کا منصوبہ گیٹ کو بم سے اڑانے کے بعد اندر داخل ہوکر چاقو یا بندوق سے وزیر اعظم پر حملہ کرنے کا تھا۔قابل ذکر ہے کہ 10 ڈانگ اسٹریٹ برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش اور دفتر ہے . یہاں سیکورٹی کے سخت انتظامات ہیں اور اس سڑک کے آخر میں ایک گیٹ ہے جہاں عام لوگ اور سیاح وزیراعظم رہائش گاہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔لندن میٹروپولیٹن پولیس کی انسداد دہشت گردی کمان کے سربراہ ڈین ہیڈن نے نعیم الرحمن کے سلسلہ میں کہا کہ ہم ایک ایسے شخص کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو پولیس افسران سمیت کئی دیگر افراد کو قتل کر سکتا تھا۔مسٹر ہیڈن نے بتایا کہ نعیم الرحمن اپنے ایک چچا کے رابطے میں تھا جو شام جاکر اسلامک اسٹیٹ میں شامل ہو گیا تھا۔نعیم الرحمن کا چچا اپنے بھتیجے کو برطانیہ میں حملے کرنے کے لئے اکساتا تھا۔نعیم الرحمن تقریباً دو سال سے وزیر اعظم ٹریسا مئے پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا، لیکن اس کا عزم تب اور بھی پختہ ہو گیا جب اسے معلوم ہوا کہ اس کا چچا ایک ڈرون حملے میں مارا گیا ہے ۔امریکہ کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف بی آئی)، برطانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی- 5 اور مقامی پولیس کی ایک خفیہ مشترکہ مہم میں نعیم الرحمن کے منصوبہ کا پتہ چلا تھا۔وزیر اعظم ٹریسا مئے کے قتل کی سازش کا اس وقت پتہ چلا جب نعیم الرحمن نے حملہ کے سلسلہ میں مدد مانگنے کے لئے کچھ لوگوں سے آن لائن رابطہ کیا۔ نعیم الرحمن کو لگا کہ وہ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے ارکان سے بات کر رہا ہے لیکن وہ حقیقت میں ایف بی آئی اور ایم آئی- 5 سیکورٹی سروس کے افسران تھے ۔نعیم الرحمن کو گزشتہ سال نومبر میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ آئی ایس کے ارکان سے دو آئی ای ڈی دھماکہ خیز جمع کر رہا تھا. یہ آئی ایس کے رکن حقیقت میں ایف بی آئی اور ایم آئی- 5 سیکورٹی سروس کے افسر تھے ۔

جواب چھوڑیں