عرب ممالک کا بائیکاٹ، دوحہ ہوائی اڈے پر ویرانی

چار عرب ممالک کی طرف سے خلیجی ریاست قطر کے سیاسی، سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کے نتیجے میں قطرمیں غیرملکی مسافروں کی آمد میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے والے قطر کے بائیکاٹ کے بعد دوحہ کے حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں کے دوران دنیا بھر سے مسافروں کی بہت کم تعداد نے قطر کا رخ کیا ہے۔خیال رہے کہ حمد بین الاقوامی ہوائی اڈہ قطر کی سرکاری فضائی کمپنی کا ہیڈ کواٹربھی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون 2017ء کو قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عاید کرنے کے بعد دوحہ کا تجارتی، سیاسی اور سفارتی بائیکاٹ کردیا تھا۔ بائیکاٹ کے اعلان کے بعد ان ملکوں نے قطری فضائی کمپنی کو اپنی فضاء استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ سعودی عرب اور امارات قطری فضائی کمپنی کے دو مارکیٹیں تھیں۔ ان ملکوں کے بائیکاٹ نے دوحہ کو سیاحت کے شعبے میں بے پناہ نقصان سے دوچار کیا ہے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافروں کی تعداد میں گذشتہ برس کی نسبت 13 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔ گذشتہ برس 1کروڑ 90 لاکھ افراد نے دوحہ کے حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو سفر کے لیے استعمال کیاجب کہ رواں سال یہ تعداد 1 کروڑ 65 لاکھ رہ گئی ہے۔تاہم دوسری جانب حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مال بردار جہازوں کی آمد میں 7.6 فی صد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مال بردار جہازوں کی آمد میں اضافہ سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں کے ساتھ زمین راستوں کی بندش کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں