غار کے اندر سے بچائے گئے بچوں کو اسپتال سے چھٹی ، پہلی بار گھروں میں نیند کھلی

تھائی لینڈ کے غار سے بچائے گئے تمام بچوں کو بدھ کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی اور آج صبح ہفتوں بعد یہ اپنے گھروں میں پہلی بار نیند سے جاگے ۔ ان میں سے کئی بچوں نے علی الصبح مذہبی رسومات میں حصہ لیا ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 11 سے 16 سال کی عمر کے ان 12 بچوں اور 25 سالہ ان کے کوچ کو بدھ کو شمالی چھیانگ رائی صوبے کے ایک اسپتال سے چھٹی دے دی گئی اور اس کے بعد یہ سبھی گھر جاکر سکون کی نیند سوئے ۔ان بچوں کو قومی ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں بھی دکھایا گیا ہے جس میں وہ ہنستے اور کھلکھلاتے نظر آ رہے تھے اور ان بچوں نے اپنے ان المنا ک اور خوفناک لمحات کا بھی ذکر کیا جب انہیں زندہ رہنے کے لئے غار کے اندر اپنی زندگی بچانے کے لئے جدوجہد کرنی پڑی تھی۔شمالی تھائی لینڈ کے غاروں میں پھنسے 12 بچوں نے بحفاظت باہر نکلنے کے بعد پہلی بار میڈیا سے بات چیت میں کہا ہے کہ وہ ‘لمحات معجزانہ’ جب غوطہ خوروں نے ان کا پتہ لگایا۔ادلسام کی عمر 14 برس ہے وہ انھیں بچوں میں شامل تھے ۔انگریزی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ جب برطانوی غوطہ خوروں نے انھیں بچایا تو وہ فقط انھیں ہیلو ہی کہہ سکے ۔یہ لڑکے اپنے کوچ کے ہمراہ تھیم لوانگ کے غاروں میں دو ہفتے سے زائد عرصے تک محصور رہے ۔یہ تمام لڑکے اس موقع پر وائلڈ بییئر نامی فٹ بال کلب کی جونئیر ٹیم کی کٹ پہنے چھیانگ رائی میں پریس کانفرنس کے لیے آئے ۔وہاں موجود سٹیج کو پچ کی شکل دی گئی تھی اور اس پر آویزاں بینروں پر لکھا تھا کہ ‘وائلڈ بیئرز کو گھر لاتے ہوئے ۔’یہ بچے تھائی لینڈ کے ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ موجود تھے جنھوں نے انھیں بچانے میں مدد فراہم کی۔ ایک بچے نے بتایا کہ انھوں نے کیسے غار میں موجود پانی پر گزارہ کیا۔” پانی صاف ہے ، صرف پانی خوراک نہیں۔”11 سالہ ٹائٹن نے کہا کہ ”میں نے کوشش کی کہ میں کھانے کے بارے میں نہ سوچوں کیونکہ اس سے مجھے اور زیادہ بھوک لگتی تھی۔”یہ بچے 23 جون کو لاپتہ ہوئے تھے اور دو جولائی کو بازیاب ہوئے تھے ۔نیوی سیلز نے انھیں خوراک اور دیگر اشیا پہنچائی تھیں۔لڑکوں نے بتایا کہ کیسے ایک ہفتے کے دوران ان کے اور امدادی کارکنوں کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا تھا۔ٹائٹن کہتے ہیں کہ نیوی سیل بیٹوئے تو غار کے بادشاہ تھے جو ہمیشہ شطرنج کی بازی جیت جاتے تھے ۔ٹیم کے کوچ کیپول چانٹاونگ نے بحریہ کے اس اہلکار کو بطور خاص خراج تحسین پیش کیا جنھوں نے اس آپریشن میں اپنی جان کھو دی تھی۔”ہم بہت متاثر ہیں اس بات سے کہ سمان نے اپنی زندگی ہمیں بچانے کے لیے قربان کر دی، صرف اس لیے کہ ہم یہاں سے جا کر اپنی زندگی گزار سکیں۔ ہم نے جب یہ خبر سنی تو ہمیں دھچکا لگا۔ ہم بہت اداس تھے ۔ ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے ہم ان کے خاندان کے غم کا سبب بنے ہیں۔”کچھ لڑکوں نے کہا کہ اس تجربے سے انھوں نے سبق سیکھا ہے ۔

جواب چھوڑیں