لوک سبھا میں آج تحریک عدم اعتماد پر بحث اور رائے دہی

لوک سبھا میں حکومت کیخلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر کل جمعہ(20جولائی) کو بحث اور رائے دہی ہوگی۔4سال کی مدت میں مودی حکومت کو پہلی بار تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے اور حکومت کو بآسانی اپنی کامیابی کا یقین ہے۔ تمام نظریں انا ڈی ایم کے اور بیجو جنتا دل جیسی جماعتوں کے امکانی موقف اور دن بھر طویل مباحث پر مرکوز ہیں۔ امکان ہے کہ یہ مباحث‘ 2019میں ہونے والے عام انتخابات کیلئے ایجنڈہ کا پیش خیمہ ہوں گی۔ عددی اعتبار سے ایوان میں اپوزیشن کانگریس اور دیگر جماعتوں کے مخالف ارکان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ تاہم کانگریس اور دیگر جماعتوں نے متعدد مسائل بشمول کسانوں کو مشکلات ‘ معاشی پیداوار میں اضافہ کی سست رفتار اور ہجوم کے ہاتھوں ہلاکتوں کے واقعات جیسے مسائل پر‘ بحث کے دوران حکومت کو ہدف تنقید بنانے سے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی‘ اپنی حمایت کے دائرہ کو وسعت دینے سے دلچسپی رکھتی ہے جبکہ اُس کو ایوان کے 313ارکان کی تائید کی ضمانت حاصل ہے۔ اُس کی ناراض حلیف شیوسینا نے کہاہے کہ وہ حکومت کی تائید کرے گی اور علاقائی جماعتوں جیسے آل انڈیا انا ڈی ایم کے اور بیجو جنتادل سے حمایت کی خواہاں ہیں۔ شیوسینا‘ مخالف بی جے پی محاذ کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گی۔ اِس طرح وہ تحریک عدم اعتماد کی تائید کو گھٹانے کی کوشش کرے گی۔ 534رکنی ایوان میں این ڈی اے ارکان کی تعداد313ہے جن میں بی جے پی ارکان کی تعداد (بشمول اسپیکر274 ہے) شیوسینا ارکان کی تعداد18‘ رام ولاس پاسوان کی زیر قیادت ایل جے پی کے ارکان کی تعداد 6‘ اورشرومنی اکالی دل ارکان کی تعداد4ہے ۔ایوان میں سادہ اکثریت کیلئے 268ارکان کی تائید کی ضرورت ہے۔ 11نشستیں خالی ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کی تیاری کرلی ہے۔ 15برس کی مدت میں اپنے نوعیت کی پہلی تحریک عدم اعتماد ہے‘ چیف منسٹر کے پلانی سوامی نے اشارہ دیا ہے کہ ممکن ہے کہ اُن کی پارٹی‘ مذکورہ تحریک کی تائید نہیں کرے ۔ ایوان میں انا ڈی ایم کے ‘ کے ارکان کی تعداد37ہے اور رائے دہی کے دوران اِن ارکان کی‘ عدم حاضری کو خارج از امکان نہیں قرادیا جارہا ہے ۔ سابقہ تحریک عدم اعتماد‘ 2003میں کانگریس نے اُس وقت کی حکومت کیخلاف پیش کی تھی اور اِس تحریک کو شکست ہوئی تھی۔ اوڈیشہ میں حکمراں بیجوجنتادل نے کہاہے کہ وہ ‘ تحریک عدم اعتماد پر اپنے موقف کا انکشاف کل ‘ ایوان ہی میں کرے گی۔ اِس پارٹی کے ارکان لوک سبھا کی تعداد 19 ہے۔ تمام اہم جماعتوں بشمول بی جے پی اور کانگریس نے ایوان میں اپنے تمام ارکان کی موجودگی کو یقینی بنانے وہپس جاری کردیئے ہیں۔ بحث‘ کل صبح 11بجے شروع ہوگی۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کل کہا تھا کہ بی جے پی کی سابق حلیف تلگودیشم پارٹی(پی ڈی )پی کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر بحث (کل 20جولائی کو) دن بھر ہوگی جس کے بعدتحریک پر رائے دہی ہوگی۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اِس تحریک عدم اعتماد سے بہ آسانی کامیابی سے ساتھ نکل آئے گی اور بی جے پی کو کئی غیر این ڈی اے جماعتوں کی تائید حاصل ہونے کی امید ہے۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو نے کانگریسی رہنماء سونیا گاندھی کے اِس دعویٰ پر کہ اپوزیشن کو درکار ارکان کی تعداد حاصل ہے‘ رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’ اگر کوئی ‘ ہندوستانی ریاضی سے شمار کرے تو ایوان میں تحریک عدم اعتماد کو شکست دینے کیلئے حکومت کے پاس عددی طاقت موجود ہے‘‘۔ مجھے پتہ نہیں ہے کہ وہ(سونیا گاندھی)کس ملک کی ریاضی سے ‘ ارکان کی تعداد شمار کررہی ہیں۔ اسی دوران وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے بھی کانگریسی رہنماء پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ’’ سونیا گاندھی کی ریاضی کمزور ہے‘ ہمیں نئی تائید حاصل ہوئی ہے جو جنوب‘ مشرق اور دیگر تمام سِمتو ں سے ہوئی۔ بی جے پی کے قومی ترجمان جی وی ایل نرسمہارائو نے کہاکہ تعداد بہت صاف ہے۔ ایوان زیریں میں بی جے پی کی خود اپنی اکثریت ہے۔ این ڈی اے میں ہمارے تقریباً314ارکان ہیں اور دیگر جماعتیں ہیں جو امکان ہے کہ تحریک اعتماد کی مخالفت کریں گی۔ تاہم کانگریس نے کہاکہ ’’ یہ صرف تعداد کا سوال نہیں ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں ملک کے عوام سے متعلق مختلف مسائل اٹھائیں گے ۔ ہماری مہم حکومت کو بے نقاب کرنا اور عوام کے سامنے حقائق کو رکھنا ہے‘‘۔ کانگریس کے سینئر ترجمان آنند شرما نے اخبار نویسوں کو یہ بات بتائی اور کہاکہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں حکومت کی ناکامیوں پر روشنی ڈالنے اِس موقع سے استفادہ کریں گی اورحکومت کو آئینہ دکھائیں گی۔ ’’ یہ ایک مہم کا آغاز ہے جو 2019میں ہونے لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کو بوریا بستر باندھنے لگائے گی۔یہاںیہ تذکرہ بیجانہ ہوگاکہ کانگریس نے حال ہی میں اپنے ارکان لوک سبھاایک حکمت عملی میٹنگ منعقد کی تھی۔ سونیا گاندھی نے اِس کی صدارت کی ۔ اِس میٹنگ کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ مباحث کے دوران حکومت کے دوران کسانوں کے مسائل اور دیگر مسائل پر ہدف تنقید بنایاجائے گا۔ صدرکانگریس راہول گاندھی اپنی پارٹی کیلئے یہ ذمہ داری نبھائیں گے۔ امکان ہے کہ وزیر اعظم مودی اپنی تقریر کے دوران کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ’’ موقع پرست اتحاد‘‘ قراردیں گے اور کہیں گے کہ اِس اتحاد کا واحد مقصد اُنہیں(مودی ) کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔ جاریہ سال کے اواخر میں 4ریاستو ںمیں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور 2019میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل کل ایوان میں ہونے والی بحث کو بی جے پی قائدین‘ عوام تک رسائی کا ایک موقع سمجھتے ہیں اور حکومت کی مختلف کامیابیوں سے عوام کو واقف کرانے اور اپوزیشن جماعتوں کے ’’ موقع پرستانہ اتحاد‘‘ تک تنقید کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔

جواب چھوڑیں