ندا خان کو سیکوریٹی کی فراہمی۔ طلاق ثلاثہ کے خلاف مہم چلانے والی خاتون سے یوپی اقلیتی کمیشن کے ارکان کی ملاقات

اترپردیش اقلیتی کمیشن کے 2 ارکان پر مشتمل ٹیم ‘ طلاق ثلاثہ کے خلاف مہم چلانے والی خاتون ندا خان کے خلاف فتویٰ اور دیگر مسائل کی تحقیقات کے لئے آج یہاں پہنچی۔ ٹیم نے ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سے ملاقات کے بعد ندا خان کو 24 گھنٹے سیکوریٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کا ایک بندوق بردار ‘ نداخان کو سیکوریٹی کے طورپر فراہم کردیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے یہاں بتایا کہ ریاستی اقلیتی کمیشن کے ارکان کنور اقبال حیدر اور رومانہ صدیق ‘ صدرنشین تنویر حیدر عثمانی کی ہدایت پر بریلی پہنچے اور مقامی مفتی کی جانب سے ندا خان کے خلاف فتویٰ سے لاحق سیکوریٹی خطرہ کے بارے میں تحقیقات کیں۔ ٹیم نے سرکٹ ہاؤز میں ضلع عہدیداروں سے ملاقات کی اور پھر ندا خان کی قیام گاہ پہنچ کر ان سے ملاقات کی تاکہ طلاق ثلاثہ اور حلالہ کے بارے میں ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کرسکیں۔ کنور اقبال حیدر نے بعدازاں یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاتون کو سیکوریٹی فراہم کی گئی ہے اور حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ نداخان کے خلاف جاری غیرقانونی فتویٰ سے متعلق شکایت پر اقدامات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور خاتون جس نے حلالہ کا الزام عائد کیا تھا‘ پولیس میں شکایت درج کرانے آزاد ہے ۔ بعدازاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ گذشتہ ہفتہ ایک بارسوخ دینی درس گاہ کے مفتی نے طلاق ثلاثہ اور حلالہ کے خلاف مہم چلانے پر ندا خان کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا۔ انہوں نے اپنے فتویٰ میں کہا تھا کہ ندا خان کو کوئی دوا‘ دعا اور قبر کے لئے زمین نہیں دی جانی چاہئے۔ اگر وہ بیمار پڑتی ہیں تو انہیں دوائیں فراہم نہیں کی جائیں گی۔ اگر ان کی موت ہوتی ہے تو کوئی ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھے۔ انتقال کے بعد انہیں قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی مدد یا تائید کرنے والوں کو بھی ایسی ہی سزا دی جائے گی ۔امام ِ شہر مفتی خورشید عالم نے کہا تھا کہ کسی مسلمان کو ان سے اس وقت تک ربط نہیں رکھنا چاہئے جب تک کہ وہ برسرعام معذرت خواہی نہیں کرتیں اور اپنے مخالف اسلام موقف سے انحراف نہیں کرتیں۔

جواب چھوڑیں