ہجومی تشدد ‘ ریاستی حکومتوں کا فعال کردارضروری۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا لوک سبھا میں بیان

ہجومی تشدد کا پیچیدہ مسئلہ آج لوک سبھا میں اٹھایا گیا اور کانگریس نے اس برائی کو روکنے کے لئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر حکومت کے سنجیدہ ہونے پر سوال اٹھایا۔ اس مسئلہ پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے جواب سے غیرمطمئن اصل اپوزیشن جماعت کانگریس نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ یوپی اے صدرنشین سونیا گاندھی اور کانگریس فلور لیڈر ملکارجن کھڑگے نے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کے واک آؤٹ کی قیادت کی جس میں بائیں بازو کی جماعتوں ‘ آر جے ڈی اور این سی پی کے ارکان بھی شامل ہوگئے۔ کانگریس رکن کے سی وینوگوپال نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے جاننا چاہا کہ آخر بعض مرکزی وزرا نے کیوں ہجومی تشدد کے ملزمین کی گلپوشی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر اور اس سے متعلق مسائل پر حکومت کے رویہ پر سوال اٹھایا جانا چاہئے کیونکہ حال ہی میں مدر ٹریسا کی قائم کردہ مشنریز اور چیاریٹی کی راہبات اور ارکان عملہ کو بدنام کرنے چند سرکاری ایجنسیوں کا بے جا استعمال کیا گیا ہے۔ وہ بی جے پی زیراقتدار جھارکھنڈ میں نومولودوں کو گود لینے کی ِخاطر رقم کی وصولی کے الزام میں راہبات کی گرفتاری کا حوالہ دے رہے تھے۔ وینوگوپال کے تبصرہ پر بی جے پی ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے جواب میں ہجوم کی جانب سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کئے جانے کے مختلف واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ اگرچہ نظم وضبط ریاستی موضوع ہے‘ لیکن مرکزی حکومت بھی اس مسئلہ پر کبھی خاموش نہیں رہی۔ درحقیقت ہم نے ریاستوں کو دو مرتبہ اڈوائزری جاری کی جن میں ان سے اپیل کی گئی کہ وہ خاطیوں اور ہجومی تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ 2016 میں ایک اڈوائزری جاری کی گئی تھی اور جاریہ سال جولائی کے پہلے ہفتہ میں وزارت ِ داخلہ نے دوسری اڈوائزری جاری کی۔ کانگریس قائد ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیر داخلہ کا جواب اطمینان بخش نہیں ہے۔ جس وقت راج ناتھ سنگھ جواب دے رہے تھے کئی کانگریس ارکان پارلیمنٹ بشمول وینوگوپال نے سوال کیا کہ آخر مرکزی مجلس وزرا کے ارکان کیوں ہجومی تشدد کے ملزمین کی ’’گلپوشی‘‘ کرتے پائے گئے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پہلے بھی ہجوم کی جانب سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں اور انہیں کسی بھی طرح معاف نہیں کیا جاسکتا۔ راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ ہجومی تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے ریاستیں ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ اور افواہوں کے سبب بھی ہجومی تشدد کے کئی واقعات پیش آرہے ہیں ۔ حکومت نے سوشل میڈیا پروائیڈرس سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اقدامات کریں تاکہ ایسا میکانزم تیار کیا جاسکے جو سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں اور اشتعال انگیز افواہوں کو پھیلنے سے روک سکے۔ ان کے جواب کے بعد کھڑگے نے کہا کہ وزیر داخلہ کا بیان اطمینان بخش نہیں تھا اور اسی لئے اپوزیشن واک آؤٹ کرے گی۔ بعدازاں سونیا گاندھی اور دیگر ارکان کے علاوہ آر جے ڈی‘ این سی پی اور بائیں بازو جماعتوں نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس رکن ششی تھرور نے کہاکہ ہماری پارٹی ایسے اہم مسئلہ پر لوک سبھا میں وزیر داخلہ کے بیان سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا جواب ’’پنگ پانگ گیم‘‘ کھیلنے کے مترادف تھا۔ ششی تھرور نے کہا کہ اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی بھی مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں