ہندوستان اب وہ ہندوستان نہیں رہا، اقلیتوں کاعرصہ حیات تنگ :فاروق عبداللہ

 نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے چنگل میں آچکا ہے ۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ‘ہندوستان اب وہ ہندوستان نہیں رہا ، جہاں مسلم، سکھ ، ہندو ، عیسائی، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادی حاصل تھی، ملک اس وقت مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے چنگل میں آچکا ہے ‘۔ اس موقع پر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، پارٹی قائدین سردار شمی سنگھ اوبرائے ، تنویر صادق کے علاوہ کئی لیڈر موجو دتھے ۔ فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ہندوستان میں اقلیتوں کا عرصہ حیات تنگ کیا گیاہے ، اقلیتوں اور کمزور طبقوں کے لوگوں کو بے رحمی سے قتل کرنے کے واقعات آئے روز رونما ہوتے ہیں، جو ملک کی تباہی اور بربادی کا سبب بن سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو یہ طرہ امتیاز حاصل تھا کہ یہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل تھی اور آئین ہند میں بھی تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کو تحفظ دیا گیا تھا لیکن فرقہ پرستوں کے غلبے کے بعد ان اصولوں کو تہس نہس کیا جارہا ہے ۔

جواب چھوڑیں