مسجد‘ اسلام کا لازمی حصہ ہے یا نہیں؟سپریم کورٹ کا فیصلہ 24جولائی تک محفوظ

سپریم کورٹ نے آج رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد تنازعہ کے فریق مسلم گروپس کی اس درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا کہ 1984 کے فیصلہ (مسجد ‘ اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں) پر وسیع تر بنچ دوبارہ غور کرے۔ ایودھیا کیس کے ایک اصل مدعی صدیق حال میں وفات پاگئے۔ ان کی نمائندگی ان کے قانونی وارث کررہے ہیں۔ 1984 کے محمد اسمٰعیل فاروقی کیس کی بعض باتوں جیسے مسجد‘ اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مسلم گروپس نے چیف جسٹس دیپک مشرا ‘ جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر پر مشتمل بنچ کے سامنے بحث کی کہ 5 رکنی وسیع تر بنچ اس پر دوبارہ غور کرے۔ بنچ نے کہا کہ فیصلہ محفوظ رکھا جاتا ہے۔ فریقین 24 جولائی تک تحریری حلف نامے داخل کریں۔ سینئر وکیل راجیو دھون نے صدیق کے قانونی نمائندہ کی طرف سے حاضر ہوتے ہوئے کہا کہ مسجد ‘ اسلام پر چلنے کے لئے ضروری نہیں کی رائے عدالت نے معلومات حاصل کئے یا مذہبی کتابوں کا مطالعہ کئے بغیر دے دی۔ اس پر دوبارہ غور ہونا چاہئے۔ شروع میں تلخ کلامی ہوئی۔ ایک وکیل نے راجیو دھون کے پچھلے ریمارکس پر اعتراض کیا کہ 1991میں ہندو طالبان نے بابری مسجد ڈھائی تھی۔ وکیل نے کہا کہ پورے ہندو فرقہ کے خلاف ایسی بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ راجیو دھون نے کہا کہ بابری مسجد ڈھادینا ایک دہشت گرد حرکت تھی۔ میں اپنے الفاظ واپس نہیں لوں گا۔ میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔ بنچ نے کہا کہ ہندو طالبان جیسے الفاظ کا استعمال مناسب نہیں۔ اس نے سیکوریٹی گارڈس سے کہا کہ وہ دھون سے بحث و تکرار کرنے والے وکیل کو باہر لے جائیں۔

جواب چھوڑیں