ٹرمپ کی پوٹین کو دورہ واشنگٹن کی دعوت

صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ‘ روسی صدر ولادیمیرپوٹین کو اس موسم خزاں میں واشنگٹن کے دورہ کی دعوت دی ہے۔ وائٹ ہائوز نیکل یہ بات بتائی۔ مزید کہا کہ ماسکو کی 2016امریکی انتخابات امیں مداخلت سے متعلق پہلی چوٹی کانفرنس کے دوران کھلے طورپر ٹرمپ کے تعلق سے تلخی پیدا ہوئی تھی اور اس مذاکرات کو ناکام قرار دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود پوٹین کو دعوت دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے چار دن قبل دنیا کو اس وقت ششدر کردیا تھا جب انہوں نے پوٹین کو ہلسنکی میں نظرانداز کردیا تھا۔ صدر نے قومی سیکیورٹی کے مشیر جان بٹن کو یہ دعوت نامہ حوالہ کیا کہ وہ روسی صدر کو پیش کریں۔ وائٹ ہائوز کی خاتون ترجمان سارا سینڈرس نے یہ بات کہی۔ پیر کے دن ٹرمپ اور پوٹین کے درمیان کیا ہوا۔ صرف مترجم ہی اس بارے میں سمجھ سکتے ہیں جو کہ ایک راز ہے۔ چوٹی کے عہدیدار اور امریکی قانون سازوں نے بتایا کہ انہیں اس بارے میں واقف نہیں کرایا گیا۔ ٹرمپ کے نیشنل ایجنسی ڈائرکٹر ڈان کوٹس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کولوراڈو میں سیکیورٹی فورم کے بموجب ’’ٹھیک ہیں آپ درست ہیں‘‘ میں نہیں جانتا کہ میٹنگ میں کیا ہوا تھا۔ اہم دعوت پوٹین کی کامیابی کے طورپر دیکھی جارہی ہے جن کا آخری دورہ امریکہ جولائی 2007میں ہوا تھا جب انہوں نے دو دن بُش خاندان کے کمپائونڈ میں گذارے تھے۔ ٹرمپ اور پوٹین دونوں نے قبل ازیں جمعرات کو اپنی پہلی میٹنگ کی یہ کہتے ہوئے ستائش کی تھی اور ان امریکی طاقتوں کو مورد الزام ٹہرایا کہ وہ کامیابیوں کو معمولی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے تعلق سے مباحث کے بارے میں‘ اسرائیل کی سیکیوریٹی‘ نیوکلیئر عدم پھیلائو‘ سائبر حملے‘ تجارت‘ مشرقی وسطیٰ اور شمالی کوریا میں امن جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ایک ٹویٹر پوسٹ میں ٹرمپ نے میڈیا پر الزام عائد کیا۔ روس کے ساتھ چوٹی کانفرنس شاندار کامیابی رہی جو کہ حقیقی عوام کا دشمن جھوٹی خبریں دینے والا میڈیا ہے۔ ماسکو میں پوٹین نے چوٹی اجلاس کے بارے میں کہا کہ یہ مجموعی طورپر کامیاب رہی اور بعض مفید معاہدے طئے پائے گئے ہیں لیکن انہوں نے ان معاہدوں کی تفصیلات نہیں بتائی۔ سنیٹ کے چوٹی کے ڈیموکریٹ چک اسکوٹنر نے دعوت پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ دو گھنٹوں کی میٹنگ جو ہلسنکی میں ہوئی کیا ہوا تھا؟ صدر کو دوبدو پوٹین کے ساتھ بات چیت کے بارے میں روس اور امریکہ یا کہیں اور بھی ہو بتانا چاہیئے تھا۔ یہ بات بیان میں کہی۔ کوٹس جنہوں نے پیر کے دن انٹیلیجنس ایجنسیوں کا دفاع کرتے ہوئے جنہوں نے روس کی مداخلت کے بارے میں بتایا تھا اور انہوں نے پوٹین کے ساتھ براہ راست میٹنگ کے خلاف مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کچھ الگ ہی انداز دکھائی دے رہا ہے۔ روسی صدر کا دورہ امریکہ ایک شاذونادر واقعہ ہے۔ آخری مرتبہ جون 2010میں دیمتری میدوف جو اب روسی وزیر اعظم ہیں دورہ کیا تھا۔ وائٹ ہائوز کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بولٹن نے سرکاری دعوت نامہ پوٹین کے حوالہ کیا۔ یہ دعوت نامہ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب کے ذریعہ پہنچایا۔ ابھی اس بارے میں کوئی تاریخ طئے نہیں کی گئی اور یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پرہوگا جو ستمبر کے اوائل رہے گا۔

جواب چھوڑیں