اپوزیشن قائدین ‘ اقتدار کی ہوس میں اندھے ہوچکے ہیں:مودی

لوک سبھا میں کل تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں فیصلہ کن جیت سے تروتازہ وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے دن اپوزیشن قائدین پر تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ قائدین اقتدار کی ہوس میں اندھے ہوچکے ہیں۔ جب ایک دَل دوسرے دَل سے ملتا ہے تو دلدل بن جاتا ہے اور جہاں ڈھیر سارا دلدل ہو تو وہاں کنول کھلنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ وہ اترپردیش کے اس شمالی ضلع میں کسان کلیان ریالی سے خطاب کررہے تھے۔ کسی کا نام لئے بغیر مودی نے راہول گاندھی کے لوک سبھا میں جمعہ کے دن ان کے گلے لگنے کا مذاق اڑایا اور کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی وجہ تو نہیں بتاسکتے ‘ گلے پڑتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے ایسے وقت تحریک عدم اعتماد پیش کی جب پورا ملک ان پر اور ان کی حکومت پر بھروسہ کرتا ہے۔ اپوزیشن کے الزامات اور اعدادوشمار اتنے ہی کمزور ہیں جتنا کہ ان کا رویہ ۔ مودی نے کہا کہ کانگریس کے ایک وزیراعظم نے کہا تھا کہ نئی دہلی سے بھیجے جانے والے ہر 100 روپے میں صرف 15پیسے عوام تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے مجمع سے سوال کیا کہ یہ کس ہاتھ کا کرتب ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد نے تمام جماعتوں کو بے نقاب کردیا چاہے وہ سیکل(سماج وادی پارٹی) ہو یا ہاتھی(بی ایس پی)۔ پی ٹی آئی کے بموجب مودی نے پارلیمنٹ میں غیرضروری گلے لگنے پر راہول گاندھی پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی جماعتوں کے بی جے پی کے خلاف یکجا ہونے سے صرف کنول ہی کھلے گا۔ ہم نے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی وجہ پوچھی تو وہ بتانہ سکے اور ہمارے گلے لگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک دَل نہیں بلکہ دَل پر دَل ہیں جس کے نتیجہ میں دلدل پیدا ہوتا ہے جہاں کنول ہی کھلتا ہے۔ کنول بی جے پی کا انتخابی نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سیاسی جماعتوں کا یکجا ہونے بی جے پی کے لئے موقع فراہم کرے گا۔ اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سبھی جماعتیں وزیراعظم کی کرسی کے لئے دوڑ رہی ہیں ۔ انہیں عوام‘ نوجوانوں اور کسانوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے عوام سے پوچھا کہ کل لوک سبھا میں جو ہوا اس سے کیا وہ مطمئن ہیں؟ ۔ کیا آپ کو پتہ چل گیا کہ غلطی پر کون ہیں ۔ کیا میں نے کچھ غلط کیا ہے؟ ۔میں صرف غریبوں اور ملک کے لئے کام کررہا ہوں۔کرپشن سے لڑرہا ہوں اور یہی میرا جرم ہے۔ متصل اضلاع ہردوئی ‘ لکھم پور کھیری ‘ پیلی بھیت ‘ سیتاپور‘ بریلی اور بدایوں کے کسانوں کی بڑی تعداد نے ریالی میں شرکت کی۔

جواب چھوڑیں