راجستھان میں گؤ رکھشکوں کا ایک اور حملہ‘ میوات کا اکبرخان ہلاک

راجستھان کے ضلع اَلور میں ایک 28 سالہ شخص کو مشتبہ گئو رکھشکوں نے پیٹ پیٹ کر مارڈالا۔ پولیس نے ہفتہ کے دن یہ بات بتائی۔ 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے نے جمعہ کے واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ خاطیوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی۔ میوات(راجستھان) کا اکبر خان ایک اور شخص کے ساتھ گائیں اپنے گاؤں لے جارہا تھا کہ موضع لالہ ونڈی کے قریب دیہاتیوں کے ایک گروپ نے انہیں روک لیا اور بری طرح مارا پیٹا۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس جئے پور رینج رام گڑھ کو یہ اطلاع 12:40 بجے رات ملی۔ پولیس ٹیم جب وہاں پہنچی تو اس نے زخمی اکبر خان کو کیچڑ میں گرا پایا۔ 2 افراد 2 گایوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ اے ڈی جی پی ہیمنت پریادرشی نے میڈیا کو یہ بات بتائی۔ اکبر خان نے پولیس کو بتایا کہ وہ اور اس کا ساتھی اسلم‘ لاڈپور سے گائیں خریدکر اپنے موضع جارہے تھے کہ انہیں گائے کے اسمگلر سمجھ لیا گیا اور حملہ کردیا گیا۔ کیچڑ میں لت پت اکبر خان نے ڈھیر ہونے سے قبل کہا کہ میرے ہاتھ پیر توڑ ڈالے گئے۔ اسے فوری ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ مرچکا تھا۔ اس کی نعش پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجی گئی ہے۔ رام گڑھ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔ پولیس نے دھرمیندر یادو اور پرمجیت سنگھ سردار کو گرفتار کرلیا ہے جو حملہ کے مقام پر گایوں کے ساتھ موجود پائے گئے تھے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ گئو رکھشا کے نام پر حملے ہوچکے ہیں۔ تازہ واقعہ زائداز ایک برس بعد پیش آیا ہے۔ گذشتہ برس اپریل میں بعض گئو رکھشکوں نے پہلو خان کو قتل کردیا تھا۔ سپریم کورٹ جاریہ ہفتہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر سخت تنقید کرچکی ہے کہ وہ ہجوم کے حملوں کی روک تھام نہیں کررہی ہے۔ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ وہ اس کی روک تھام کے لئے نیا قانون بنائے۔ عدالت نے کہا تھا کہ انبوہ گردی کی سفاکانہ حرکتوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہیں ابتدا میں ہی کچل دینا چاہئے۔ پی ٹی آئی کے بموجب راجستھان کے ضلع الور میں ایک شخص کو گایوں کی اسمگلنگ کے شبہ میں مارڈالا گیا۔ 28 سالہ اکبر خان اور ایک دوسرا شخص 2 گائیں اپنے گاؤں (ہریانہ) لے جارہے تھے۔ وہ کل رات ضلع الور کے لالہ ونڈی کے قریب جنگلاتی علاقہ سے گذر رہے تھے کہ ایک گروپ نے ان پر حملہ کردیا۔ رام گڑھ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نے یہ بات بتائی۔ شرما نے کہا کہ اکبر خان پر لوگوں نے گایوں کی اسمگلنگ کا شبہ کیا لیکن اس الزام کی توثیق ہونی باقی ہے۔ دوسرا شخص بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ اکبر خان کو رام گڑھ کے سرکاری ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ مرچکا تھا۔ اس کے ارکان خاندان کے آنے کے بعد پوسٹ مارٹم ہوگا۔ آئی پی سی سکشن 302 کے تحت کیس درج کرلیا گیا ۔ گذشتہ ایک برس میں الور میں ایسے کئی حملے ہوچکے ہیں۔ گئو رکھشکوں نے مویشی لے جانے والوں کو نشانہ بنایا ہے۔

جواب چھوڑیں