رافیل معاملت‘ راہول گاندھی نے اپنی ساکھ گھٹالی: جیٹلی

 مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی قائد ارون جیٹلی نے ہفتہ کے دن کہا کہ کانگریس صدر راہول گاندھی نے رافیل معاملت میں صدر فرانس میکرون سے اپنی ملاقات اور بات چیت کی من گھڑت بات کرکے عالمی سطح پر اپنی ساکھ گھٹالی۔ انہوں نے دنیا کے سامنے ایک ہندوستانی سیاستداں کی امیج کو شدید نقصان پہنچایا۔ جیٹلی نے فیس بک پر پوسٹ آرٹیکل میں لکھا کہ رازداری کے معاہدہ پر یو پی اے حکومت کے وزیر کی دستخط کی حقیقت سے ناواقف ہونا ‘ ناقابل فہم ہے۔ حکومت فرانس نے کل ہی وضاحت کردی تھی کہ فرانس اور ہندوستان نے 2008 میں سیکوریٹی معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے دونوں ممالک رازدارانہ جانکاری کے تحفظ کے قانوناً پابند ہیں۔ لوک سبھا میں کل تحریک عدم اعتماد پر گرماگرم بحث کے دوران راہول گاندھی نے کہا تھا کہ وزیر دفاع نرملا سیتارمن نے یہ کہہ کر ملک کو گمراہ کیا ہے کہ رافیل معاملت کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی جاسکتیں کیونکہ فرانس اور ہندوستان نے ایسا ہی معاہدہ کیا ہے۔ سینئر بی جے پی قائد نے کہا کہ کسی حکومت کے سربراہ یا سربراہ مملکت سے ہونے والی بات چیت کی غلط ترجمانی نہیں ہونی چاہئے۔ اگر کسی نے ایک بار ایسا کردیا تو سنجیدہ لوگ بات چیت سے ہچکچائیں گے یا اس شخص کی موجودگی میں بات نہیں کریں گے۔ جیٹلی نے کہا کہ کانگریس صدر نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کو شرمندہ کردیا کہ بات چیت کے وقت وہ موجود تھے۔ راہول نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ حقائق سے ناواقف ہیں۔ پی ٹی آئی کے بموجب جیٹلی نے راہول گاندھی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے فرنچ صدر میکرون سے بات چیت کی من گھڑت بات کرکے دنیا میں ہندوستانی سیاستداں کی امیج خراب کی ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ وزیراعظم بننے کی خواہش رکھنے والا ناواقفیت‘ جھوٹ اور بازی گری کو گڈمڈ نہیں کرسکتا۔ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد‘ سنجیدہ معاملہ ہوتی ہے ‘ ہنسی مذاق نہیں۔ ایک قومی سیاسی جماعت کے صدر کا ہر لفظ قیمتی ہونا چاہئے۔ اس کے پیش کردہ حقائق‘ مستند ہونے چاہئیں۔

جواب چھوڑیں