طمانیت روزگار اسکیم، مزدوروں کو کام کی فراہمی ضروری:جوپلی کرشنا راؤ

قومی دیہی طمانیت روزگار اسکیم کے جاب کارڈ ہولڈرس کیلئے روزگار کے مواقع کی تخلیق کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی وزیر پنچایت راج جوپلی کرشنا راؤ نے ہفتہ کو متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ کم از کم 60 فیصد کا رڈ ہولڈرس کو ایک سو دن روزگار فراہم کرنے کی ممکنہ مساعی انجام دیں۔ یہاں این آئی آر ڈی میں منعقدہ قومی دیہی طمانیت روزگار اسکیم( این آر ای جی ایس) کے کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو پلی کرشنا راؤ نے کہا کہ بھارت پروگرام کے تحت انفرادی بیت الخلا کی تعمیر کی ایک اسکیم ہے اس اسکیم کے تحت کاموں کیلئے بڑے پیمانے پر افرادی قوت کی دستیابی ضروری ہے ۔ اس اسکیم پر رواں سال 2اکتوبر ( گاندھی جینتی) تک عمل آوری مکمل ہوجائے گی ۔ انہوںنے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ جاب کارڈ ہولڈرس کو یہ کام فراہم کرنے کے اقدامات کریں اور جاب کارڈ ہولڈرس کو ایک سودن کام فراہم کے نشانہ کو حاصل کریں۔ انہوںنے منتخب عوامی نمائندوں کو ان کے حلقوں میں کام فراہم کرنے میں شراکت دار بنانے کی بھی ہدایت دی اور کہا کہ جہاں کہیں کام طلب ہوں وہاں ان کارڈ ہولڈرس کو روانہ کریں تاکہ انہیں روزگار حاصل ہوسکے ۔ انہوںنے پرائم منسٹر گرام سڑک یوجنا کی ستائش کی اور کہا کہ اس یوجنا کے تحت مواضعات میں سڑکوں کے تعمیری کام تیزی کے ساتھ جاری ہیں اور کئی کام مکمل بھی ہوچکے ہیں۔ اس طرح طلب پر دیگر مقامات پر کاموں کو حاصل کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کاماریڈی اور رنگاریڈی اضلاع میں طمانیت روزگار اسکیم کے تحت کاموں میں بدعنوانیوں کی اطلاعات منظر عام پر آئی ہے۔ تاہم وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ ان بدعنوانیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اندرون ایک ہفتہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں ۔

جواب چھوڑیں