نواز شریف کیخلاف فیصلہ کرنے پاکستانی جج پر دباؤ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی ‘آئی ایس آئی’ پوری طرح عدالتی معاملات میں جوڑ توڑ کرنے میں ملوث ہے۔ آئی ایس آئی والے اپنی مرضی کے بینچ بنواتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے چیف جسٹس کو اپروچ کر کے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے دینا۔جسٹس شوکت صدیقی نے دعویٰ کیا کہ عدلیہ کی آزادی سلب ہو چکی ہے اور وہ بندوق والوں کے کنٹرول میں ہے۔ہفتے کو راولپنڈی آباد میں راول ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ احتساب عدالت کی روز کی پروسیڈنگ کہاں جاتی رہی ہیں۔ معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کون کس کا پیغام لے کر جاتا ہے۔جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ انہیں نوکری کی پرواہ نہیں۔ ان کے بقول انہیں یہ کہا گیا تھا کہ اگر وہ یقین دہانی کرائیں کہ “ان کی” مرضی کے فیصلے کریں گے تو آپ کے خلاف ریفرنس ختم کرا دیں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں نومبر تک چیف جسٹس بنوانے کی بھی پیش کش کی گئی تھی۔بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کی اس تقریب میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی بطور مہمانِ خصوصی شریک تھے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کر رہا ہوں۔ میرا سب سے بڑا احتساب بار ہی کر سکتی ہے۔ میری بار سے اٹھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ شوکت عزیز صدیقی نے کرپشن کی۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی اہم کیس کا فیصلہ آتا ہے، میرے کے خلاف ایک حلقے سے مہم شروع کر دی جاتی ہے۔ میرا ٹرائل اوپن اور سب کے سامنے ہونا چاہیے جہاں میڈیا بھی موجود ہو۔ میں نے اپنے ضمیر اور پوری ایمان داری کے ساتھ فیصلے کیے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ بڑے عرصے سے خواہش تھی کہ بار کے پاس آکر خود کو احتساب کے لیے پیش کروں۔ سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی تھی کہ میرے خلاف ریفرنس کی کاروائی کھلی عدالت میں ہو۔ اگر میرے خلاف لگائے گئے الزامات میں سے ایک بھی ثابت ہو گیا تو آپ مجھ سے استعفے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج کا کہنا تھا کہ ان کی دانست میں پاکستان ایک کشمکش کے دور سے گزر رہا ہے۔ جو لوگ پاکستان کا مقابلہ امریکہ، چین یا یورپی ممالک سے کرتے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ پاکستان کا مقابلہ ہندوستان کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ہندوستان میں بھی کرپشن ہے۔ وہاں بھی مسائل ہیں لیکن ایک فرق ہے کہ ہندوستان میں ایک بار بھی مارشل نہیں لگا۔ ایک بار بھی سیاسی عمل نہیں رکا۔ ہندوستان کا وزیرِ اعظم وہ شخص ہے جو چائے کے کھوکھے پر کام کرتا رہا ہے۔جسٹس صدیقی نے کہا کہ وہ فوج، بیورو کریسی اور سیاست دانوں کے مقابلے میں عدلیہ کو پاکستان کے مسائل کو 50 فی صد سبب سمجھتے ہیں۔ باقی 50 فی صد دیگر مسائل کے فوج، بیورو کریسی اور سیاست دان ذمے دار ہیں۔ بدقسمتی سے ہر کچھ عرصے کے بعد جسٹس منیر کا کردار پاکستان کی عدلیہ میں زندہ ہوتا ہے۔ اس ملک کے 35 سال تو مارشل لا کی نذر ہو گئے۔اپنے خطاب میں جسٹس صدیقی نے ذرائع ابلاغ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آج یہ میڈیا والے بھی اپنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے۔ آج یہ بتا دیں کہ آئی ایس پی آر والے انہیں ڈائریکشن نہیں دیتے۔ میڈیا والے بھی اپنے اشتہار بیچنے کے لیے سچ بولنے سے گریزاں ہیں۔ میڈیا معاشرے کی آواز ہوتی ہے۔ اگر اس ادارے کو پابندِ سلاسل کر دیا جائے گا تو مجھے کہنے دیں کہ یہ ملک آزاد نہیں رہے گا۔

جواب چھوڑیں