وائی ایس آر سی پی کا24جولائی کو آندھرا پردیش بند

مرکزی حکومت کی ریاست کے ساتھ ناانصافیوں کے خلاف اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے24 جولائی کو آندھرا پردیش بند کا اعلان کیا ہے ۔ ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ آندھرا پردیش بند کو کامیاب بنائیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے تلگودیشم کے تمام ارکان پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا ۔ تلگودیشم پارٹی کی جانب سے مودی حکومت کے خلاف لوک سبھا میں پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو شکست کے ایک دن بعد وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی کے تمام ارکان پارلیمنٹ کو عہدوں سے استعفیٰ دیتے ہوئے ریاست کو خصوصی موقف دینے کے مطالبہ پر مرکز پر دباؤ بنانے کیلئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنی چاہئے ۔ کاکیناڈا میں ہفتہ کے روز میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگن نے کہا کہ اگر ریاست کے تمام ایم پیز، عہدوں سے مستعفی ہوکر شدید احتجاج کریں تو مرکز، اے پی تنظیم جدید بل میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے مجبور ہوجائے گا ۔ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے سے انکار کے بعد وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے گذشتہ ماہ عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ جگن نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے دوران کانگریس اور نہ ہی بی جے پی نے ریاست کو خصوصی موقف دینے کے مسئلہ پر بات کی ۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ کانگریس صدر راہول گاندھی نے بھی اپنی نصف گھنٹہ کی طویل تقریر میں آندھرا پردیش سے مربوط مسائل پر بات نہیں کی ۔ ریاست کے قائد اپوزیشن نے گذشتہ4برسوں کے دوران وعدوں کو پورانہ کرنے پر مرکز کی این ڈی اے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ جگن نے کہا کہ مباحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کی رضا مندی کے بعد ہی مرکز نے آندھرا رپدیش کیلئے خصوصی پیاکیج کا اعلان کیا ہے ۔ جگن نے کہا کہ خصوصی موقف کے بجائے خصوصی پیاکیج کو قبول کرنے کا حق کس نے نائیڈو کو دیا ہے۔

جواب چھوڑیں