وزیر اعظم کے ردعمل پر چیف منسٹر اے پی برہم

آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے اے پی تنظیم جدید بل میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ردعمل پر برہمی کا اظہار کیا ۔ کل لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی، اے پی تنظیم جدید بل میں کئے گئے وعدوں پر اپنا ردعمل دے رہے تھے ۔ نائیڈو نے مودی کے ردعمل پر برہمی کااظہار کیا اور ریاست کے عوام پر زور دیا کہ وہ ہفتہ کو مودی کے ردعمل پر اپنا احتجاج درج کرائیں۔ چیف منسٹر نائیڈو جو، جمعہ کے روز ایوان میں مباحث کے آغاز سے اختتام تک نظر رکھے ہوئے تھے ، نے کل نصف شب کو یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انہوںنے کہا کہ اے پی تنظیم جدید بل میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے آخری کوشش کے طور پر تلگودیشم پارٹی نے مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی ۔ تاہم ریاست کے عوام کے درد کو سمجھنے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں غیر ذمہ دارانہ اور غیرلچکدار رویہ اپنایا ۔ وزیر اعظم کے ریمارکس سے مجھے سخت تکلیف ہوئی ہے جبکہ ہم نے صرف وعدوں کی تکمیل کے خاطر تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی لیکن مودی نے مجھ پر موقف تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ( مرکز کی جانب سے پیش کردہ خصوصی پیاکیج منظور کرنے کی طرف اشارہ تھا) ۔ یہ انتہائی نامناسب اور بدبختی کی بات ہے کہ وزیر اعظم ، سیاست پر بات کررہے ہیں۔ جبکہ آندھراپردیش، وعدوں کی تکمیل پر زور دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی فائدہ کیلئے نہیں بلکہ ریاست کے مفادات کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ وعدوں کی عدم تکمیل کے اسباب وعلل بتانے کے بجائے وزیر اعظم ، سیاست کررہے ہیں ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مودی نے لوک سبھا میں وعدوں کی تکمیل کیلئے واضح تیقن کیوں نہیں دیا۔ نائیڈو نے یہ بات کہی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اپوزیشن کانگریس نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے سے انہیں کوئی اعتراض نہیں رہے گا ۔ انہوںنے سوال کیا کہ آخر مرکزی حکومت کو خصوصی موقف کا مطالبہ ماننے میں کیا دشواری ہے ۔

جواب چھوڑیں