پی ڈی پی ارکانِ اسمبلی کیوں جائے پناہ کی تلاش میں ہیں؟ محبوبہ مفتی سے نیشنل کانفرنس کا استفسار

قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کی جانب سے ان کے خلاف تحقیقات کے مبینہ خطرہ پر جائے پناہ تلاش کرنے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) ارکانِ اسمبلی کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے نیشنل کانفرنس (این سی) نے کہا ہے کہ تحقیقات سے محبوبہ مفتی کی پارٹی کس طرح ٹوٹ سکتی ہے۔ کشمیر میں پی ڈی پی کی اصل حریف جماعت نیشنل کانفرنس نے یہ بھی کہا کہ این آئی اے جیسی ایجنسیوں کا سیاسی کھیلوں کے لیے استعمال غیراخلاقی ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمانِ اعلیٰ روح اللہ مہدی نے جو بڈگام کے رکن اسمبلی ہیں ، ٹوئٹر پر کہا کہ سیاسی کھیلوں کے لیے این آئی اے جیسی ایجنسیوں کا استعمال غیراخلاقی ہے ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محبوبہ مفتی یا ان کے ارکانِ اسمبلی کو این آئی اے تحقیقات سے خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ ان کے ارکانِ اسمبلی کیوں جائے پناہ کی تلاش میں ہیں۔ تحقیقات سے ان کی پارٹی کس طرح ٹوٹ سکتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی کے کل کیے گئے تبصرہ پر ردّ ِ عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی پارٹی کے ارکانِ اسمبلی کو مجبور کیا جارہا ہے اور پارٹی چھوڑنے یا این آئی اے کے دھاووں کا سامنا کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ محبوبہ مفتی نے کل ایک قومی خانگی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے بی جے پی کا نام لیے بغیر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی پارٹی کے کئی ارکانِ اسمبلی نے انہیں شخصی طور پر بتایا ہے کہ انہیں پی ڈی پی سے دور کرنے زبردست دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت کی تائید سے بی جے پی کے دستبرداری اختیار کرنے کے بعد پہلی مرتبہ پارٹی کے موجودہ بحران پر بیان دیتے ہوئے پی ڈی پی کی صدر اور سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ان کے ارکانِ اسمبلی کو این آئی اے کے دھاووں کی دھمکی دیتے ہوئے ان کی پارٹی چھوڑنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے اور دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے اس انٹرویو میں مزید کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہی ہیں کہ نئی دہلی یہ کام کررہی ہے ، تاہم انہوں نے قومی دارالحکومت میں چند افراد سے گفتگو کی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ میڈیا کی اطلاعات کے ذریعہ یہ تصور پیدا کیا جارہا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کو رقم سے خریدا جاسکتا ہے یا اہم کابینی قلمدانوں کے لیے پی ڈی پی چھوڑنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جو ارکانِ اسمبلی ایسی پیشکش کو مسترد کررہے ہیں انہیں این آئی اے کے دھاووں کی دھمکی دی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی گذشتہ ماہ ریاست میں تین سال قدیم مخلوط حکومت کی تائید سے دستبردار ہوگئی ، جس کے بعد محبوبہ مفتی کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا ۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا تھا کہ ریاستی حکومت ، جموں و لداخ علاقوں سے امتیاز برت رہی ہے ۔

جواب چھوڑیں