آسام کے حقیقی شہری پریشان نہ ہوں۔شہریت ثابت کرنے کا موقع دیا جائے گا:راجناتھ سنگھ

این آر سی کی آسام میں اشاعت سے قبل وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج بتایاکہ پریشانی کی کوئی بات نہیں اور تمام حقیقی ہندوستانیوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے مناسب موقع دیا جائے گا۔ ا پنے سلسلہ وار ٹوئیٹر پیام میں وزیر داخلہ نے کہاکہ آسامی شہریوں کی فہرست جسے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) سے موسوم کیا گیا ہے اس کی 15 اگست 1985کو دستخط کردہ آسام سمجھوتے کی مطابقت میں تجدید کی جارہی ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اِس پر عمل کیا جارہا ہے اور عدالت اِس کارروائی پر مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے۔ اُنہوںنے بتایاکہ خوف ودہشت یا اندیشہ کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ کسی بھی شخص کو ہراسانی کا شکار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہم ہر شہری کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے اور اُس سے انسانی سلوک کریں گے۔ سنگھ نے اِس بات کا تیقن دیا کہ این آر سی کارروائی مکمل طورپر غیر جانبداری ‘ شفافیت اور باریک بینی کے ساتھ کی جارہی ہے جو جاری رہے گی۔ وزیر داخلہ نے بتایاکہ ساری کارروائی قانون کے مطابق کی جارہی ہے اور مناسب ضابطہ کار پر عمل کیاجارہا ہے۔ سنگھ نے بتایاکہ مرکزی حکومت واضح کردینا چاہتی ہے کہ این آر سی جس کی اشاعت 30جولائی کو عمل میں آرہی ہے وہ صرف مسودہ ہوگا اور اِس کے مسودہ کی اشاعت کے بعد مختلف دعوئوں اور اعتراضات کا موقع فراہم ہوگا۔ اُنہوںنے بتایاکہ تمام دعوؤں اور اعتراضات کی پوری طرح جانچ کی جائے گی۔ دعوئوںاور اعترضات کی یکسوئی سے قبل فریقین کو سماعتی موقع دیا جائے گا۔ بعد ازاں قطعی این آر سی شائع کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے بتایاکہ شہریتی حقوق میں یہ بتایاگیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو اپنے دعوئوں‘اعتراضات اور مطالبات کے نتیجہ سے مطمئن نہ ہووہ بیرونی شہریوں کے ٹربیونل میں اپیل کرسکتا ہے۔ لہٰذا کسی کو بھی این آر سی کی اشاعت کے بعد حراستی مرکز میں رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سنگھ نے بتایاکہ حکومت آسام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قانون اور نظم وضبط کی برقراری کو یقینی بنائے کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ تمام شہریوں کے تحفظ اور اُن کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے ممکنہ انتظامات کئے جارہے ہیں۔ اُنہوںنے بتایاکہ مرکزی حکومت اِس سلسلہ میں حکومت آسام کو ضروری امداد فراہم کرے گی۔ این آر سی کا اولین مسودہ جو ریاستی شہریوں کی ایک فہرست ہے اُسے 31دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب شائع کیا گیا تھا جس میں 3.29کروڑ درخواست گذاروں کے منجملہ 1.9کروڑ لوگوں کو شامل کیا گیا۔ اِس بڑی کارروائی کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت ہے جبکہ ریاست بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل ہے۔ 2005میں مرکزی وریاستی حکومتوں اور بااثر آسام اسٹوڈنٹس یونین ( اے اے ایس یو) کے درمیان سلسلہ وار میٹنگس کے بعد فیصلہ کے نتیجہ میں یہ کارروائی کی جارہی ہے۔ آسام میں بنگلہ دیش سے بیسویں صدی کے اوائل سے بڑی تعداد میں اُس ملک کے لوگوں کی آمد جاری ہے اور یہ وہ واحد ریاست ہے جہاں این آر سی موجود ہے جس کی اولین تیاری 1959میں عمل میں آئی تھی۔ سابقہ کانگریسی حکومت کے دور میں 2005میں موجودہ کارروائی کا آغاز ہوا تھا اور بی جے پی کے ریاست میں برسراقتدار آنے کے بعد اِس میں تیزی کے سا تھ اضافہ ہوا جبکہ بی جے پی نے بنگلہ دیش کے غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے انتخابی منشور میں جگہ دی تھی۔ 1951میں سب سے پہلے این آر سی کی آسام میں تیاری عمل میں آئی تھی۔ اِس ریاست میں اُس وقت 80لاکھ شہری موجود تھے۔ آسام میں غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت پر مباحث جاری رہیں اور یہ معاملہ ریاستی سیاست میں ایک متنازعہ مسئلہ بن گیا ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور اُنہیں ملک بدر کرنے کے مطالبہ کے ساتھ 6سال طویل احتجاج 1979میں اے اے ایس یو نے شروع کیا تھا ۔ اس کی انتہا 15اگست1985میں آسام سمجھوتے پر دستخط کے ساتھ ہوئی جبکہ اُس وقت راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے۔

جواب چھوڑیں