بہار میں سیاسی جماعتوں کی مہاگٹھ بندھن تشکیل دینے کی کوشش

ایک ایسے وقت جبکہ ہرشخص کی توجہ نشستوں کی شراکت داری کے پیچیدہ مسئلہ کی یکسوئی کیلئے این ڈی اے پر مرکوز ہیں ایسے میں بہار میں مہا گٹھ بندھن بی جے پی کی زیر قیادت اتحاد کو 2019کے عام انتخابات میں شکست دینے کیلئے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی تیاری میں سرگرم ہیں۔ مہا گٹھ بندھن کے مستقبل کے امکانی اتحادی شراکت داروں میں 40لوک سبھا نشستوں کی تقسیم اور اُن میں اتحاد کی کوششیں جاری ہیں جبکہ اس میں آرجے ڈی ‘ کانگریس ‘ این سی پی اور ایچ اے ایم (ہندوستانی عوا م مورچہ) اور بائیں بازو کے علاوہ شرد یادو بھی شامل ہے۔ متعلقہ پارٹیوں کے سینئر قائدین میڈیا چکاچوند سے دوررہتے ہوئے اُن میں نشستوں کی شراکت داری کے بارے میں تبادلہ خیال کررہے ہیں جو کسی بھی حلقہ میں حقیقت پسندانہ زمینی سطحی پارٹی طاقت پر مبنی ہوگی۔ آرجے ڈی کے ‘ کانگریس اور ایچ اے ایم کے سابق چیف منسٹر جیتن رام منجری نے یہ بات بتائی۔ ایچ اے ایم کے صدر کی یوپی اے کی صدرنشین سونیا گاندھی اور کانگریس کے صدر راہول گاندھی کے ساتھ اس ہفتہ کے اوائل دہلی میں کامیاب میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس کے ترجمان دانش رضوان نے پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی۔ تنظیمی انچارج کانگریس کے جنرل سکریٹری اشوک گہلوٹ نے 12جولائی کو پٹنہ میں لالوپرساد سے ملاقات کی تھی۔ اُن کے لڑکے تیجسوی یادو نے بھی کئی مرتبہ راہول گاندھی سے ملاقات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ راشٹریہ لوک سماج پارٹی(آر ایل ایس پی) جو مرکزی وزیر اوپیندرکشواہا کی پارٹی ہے وہ بھی مہا گٹھ بندھن میں شامل رہے گی۔ مرکزی مملکتی وزیر فروغ انسانی وسائل کشواہا جو نریندرمودی کابینہ میں شامل ہے اُنہوںنے آرجے ڈی قائد تیجسوی یادو کی جانب سے اُنہیں گٹھ بندھن میں شامل ہونے کیلئے بات چیت کی دعوت کا انہوںنے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ تاہم ذرائع نے بتایاکہ بالآخر کشواہا اُن کے کیمپ میں شامل ہوجائیں گے۔ ذرائع نے بتایاکہ جہاں تک مذاکرات ہوئے ہیں اُس کے پس منظر میں بہار کی 40لوک سبھا نشستوں کے منجملہ لالوپرساد کی آرجے ڈی کو تقریباً نصف تعداد میں نشستیں حاصل ہوں گی۔ کانگریس کو10‘ ایچ اے ایم کو4اور آر ایس ایل پی کو 4‘ این سی پی کو ایک اور بائیں بازو کو ایک نشست حاصل ہوگی۔ سینئر سوشلسٹ قائد شردیادو مادھے پورہ سے آرجے ڈی کے انتخابی نشان کے ساتھ اُن کے لڑکے کو امیدوار بناسکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں