جموں و کشمیر میں صدرراج کے دوران تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی

ریاست میں صدرراج کے نفاذ کے بعد سے جموں وکشمیر میں دہشت گردانہ تشدد میں شدید کمی ہوئی ہے لیکن سنگباری کے واقعات میں کسی قدر اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار میں یہ بات بتائی گئی۔ وزارت داخلہ کے اعدادوشمار میں بتایاگیاکہ 18جون تا15 جولائی دہشت گردوں کے حملوں میں ماہ رمضان کے مقابلہ میں کمی رہی ہے، جبکہ اُس دوران انسداد دہشت گردی کارروائی جاری تھی۔ اُنہوںنے بتایاکہ 16مئی کو رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ایک ماہ کیلئے سیکوریٹی کارروائیوں کی معطلی کا اعلان کیا گیا اور جموں وکشمیر میں 20جون کو صدرراج نافذ کیا گیا تھا اس سے قبل بی جے پی نے ریاست میں محبوبہ مفتی کی زیر قیادت اتحادی حکومت کی تائید سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران 47دہشت گردانہ واقعات ہوئے ہیں لیکن سیکوریٹی کارروائیوں کے دوران گذشتہ ماہ میں اس قسم کے واقعات کی تعداد 80تھی‘ جن میں نصف تعداد میں واقعات گرینیڈ کے استعمال اور ناگہانی فائرنگ پر مشتمل رہے ہیں۔ صدرراج کے نفاذ کے دوران 14دہشت گرد اور 5سیکوریٹی ملازمین ہلاک ہوئے جبکہ سیکوریٹی کارروائیوں کی معطلی کے دوران 24دہشت گرد اور 10سیکوریٹی ملازمین ہلاک ہوئے تھے۔ایک ماہ طویل صدرراج کے نفاذ کے دوران سنگباری کے 95واقعات کی اطلاع ملی ہے جبکہ ایک ماہ طویل جنگ بندی کے دوران 90واقعات کی رپورٹ ملی تھی۔ صدرراج کے دوران سیکوریٹی فورسس کی کارروائیوں میں 7شہری ہلاک ہوئے اور ان کارروائیوں کی ا یک ماہ طویل معطلی کے دوران 4شہری ہلاک ہوئے تھے۔

جواب چھوڑیں