رافیل معاملت ، یقینا ایک ’اسکام‘ ہے۔ راہول کا ٹوئٹ

صدرِ کانگریس راہول گاندھی نے آج الزام لگایا ہے کہ فرانس کے ساتھ متنازعہ رافیل جیٹ معاملت میں یقینی طور پر ایک ’’اسکام‘‘ ہے۔ انہوں نے وزیر دفاع نرملا سیتا رامن پر (معاملت کے) رازداری فقرہ پر ’’لغزشِ زبان‘‘ (تذبذب) کا الزام لگایا ۔ مذکورہ مسئلہ پر راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ہدفِ تنقید بنایا اور الزام لگایا کہ جب لڑاکا طیاروں کی قیمتوں کے بارے میں اُن سے پوچھا جاتا ہے تو وہ ’’تلملا اٹھتے ہیں‘‘۔ راہول گاندھی نے ٹوئٹ پر کہا کہ ’’ہماری وزیر دفاع نے کہا کہ وہ (قیمت) بتلائیںگی ، لیکن وہ اب (نہیں بتلائیں) ۔ وہ ان جملوں کے درمیان لڑکھڑا رہی ہیں کہ ’’یہ کوئی راز نہیں ہے اور یہ ایک بڑا راز ہے‘‘۔ رافیل کی قیمتوں کے بارے میں جب وزیر اعظم سے پوچھا جاتا ہے تو وہ ’’تلملا جاتے ہیں اور مجھ سے آنکھ ملانے سے انکار کرتے ہیں ، یقینی طور پر اس سے ایک اسکام کی بو آتی ہے۔ ‘‘ راہول گاندھی نے حکومت پر یہ تازہ حملہ ، پارلیمنٹ میں تحریک ِ عدمِ اعتماد پر بحث کے دو دن بعد کیا ہے۔ بحث کے دوران یہ کہا گیا تھا کہ صدرِ فرانس نے انہیں (راہول گاندھی کو) بتایا ہے کہ رافیل معاملت کی تفصیلات کے اظہار میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ صدرِ کانگریس نے مزید کہا کہ ’’وزیر دفاع نے صاف طور پر بعید از سچائی بات کہی ہے۔‘‘ وزیر اعظم مودی کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ میں انہیں مسکراتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں ، جس سے مایوسی کی جھلک نظر آتی ہے ۔ وہ کسی اور طرف دیکھ رہے ہیں۔ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ رہے ہیں۔‘‘ یہ سچ ہے کہ مودی کوئی ’’چوکیدار‘‘ نہیں ہیں ، لیکن غلط اقدامات میں ایک ’’بھاگیدار‘‘ (شراکت دار) ہیں۔ راہول گاندھی نے مزید کہا کہ ’’میں نے صدرِ فرانس سے شخصی طور پر ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ آیا فرانس اور ہندوستان کی حکومتوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہوا ہے ۔ صدرِ فرانس نے مجھ سے کہا کہ فرانس اور ہندوستان کی حکومتوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ‘‘۔ ’’یہ بات سچ ہے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ رافیل معاملت کی تفصیلات کو منظر عام پر لانے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ بات آپ سارے ہندوستان سے کہہ سکتے ہیں۔‘‘

جواب چھوڑیں