راہول کو ہم خیال جماعتوں سے اتحاد کا اختیار ۔سی ڈبلیو سی اجلاس کے اہم فیصلے

لوک سبھا کے انتخابات (2019) میں صدرِ کانگریس راہول گاندھی ، پارٹی کے امیدوارِ وزارتِ عظمیٰ ہوںگے۔ ’’یہ ایک فطری بات ہے کہ صدرِ کانگریس کو (وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ کے لیے) واحد چہرہ کی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔ کانگریس ، اپنے قائد کو سامنے رکھتے ہوئے یہ انتخابات لڑے گی۔‘‘ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے یہاں اخبار نویسوں سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں مذکورہ خیالات کا اظہار کیا ۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران اُن سے پوچھا گیا تھا کہ عام انتخابات کے لیے کانگریس کا امیدوارِ وزارتِ عظمیٰ کون ہوگا؟ دیگر جماعتوں سے اتحاد کے مسئلہ پر سرجے والا نے کہا کہ ’’ہم ، 2004ء کی کارکردگی میں بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔ فیصلہ ، عوام الناس کریںگے۔ کانگریس ، ایک بار واحد سب سے بڑی پارٹی بن جاتی ہے اور 200 یا اُس سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کے جادوئی عدد کو چھو لیتی ہے تو یہ فطری بات ہے کہ کانگریس پارٹی ، قیادت کررہی ہوگی اور جو کوئی ہمارے ساتھ قدم بہ قدم چلنا چاہتا ہو تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گیا۔ اسی دوران سینئر کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد نے ورکنگ کمیٹی اجلاس کے بارے میں کہا کہ یہ اجلاس ، پارٹی کو مستحکم کرنے اور 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کے لیے اتحاد کے مسئلہ پر غور کرنے کے لیے منعقد کیا گیا۔ اسی دوران پی ٹی آئی کے بموجب تشکیل نو کردہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے آج صدرِ کانگریس راہول گاندھی کو آنے والے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’ہم خیال‘‘ سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کا اختیار دیا ہے ۔  یہ اجلاس زائد از پانچ گھنٹے جاری رہا ۔ ورکنگ کمیٹی کے ارکان کے علاوہ پردیش کانگریس کمیٹی صدور اور کانگریس مقننہ پارٹی کے قائدین نے شرکت کی ۔ کانگریس نے آج مسٹر راہول گاندھی کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیں، تاکہ 2019ء میں ہونے والے عام انتخابات میں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کو بے دخل کیا جاسکے۔

جواب چھوڑیں