عبدالرشید دوستم‘ کابل ایرپورٹ پر خودکش حملہ میں بال بال بچ گئے

نائب صدر افغانستان عبد الرشید دوستم کابل ایرپورٹ پر مشتبہ خودکش بم حملہ میں بال بال بچ گئے۔ وہ ایک سیاسی حریف کو اذیت پہنچانے اور اس کے جنسی استحصال کے الزامات پر ترکی میں زائد از ایک سال کی جلاوطنی کے بعد آج اپنے وطن واپس ہوئے۔ دوستم جنہوں نے گذشتہ سال ان الزامات کے دوران افغانستان چھوڑ دیا تھادھماکہ سے چند ہی منٹ قبل موٹر کاروں کے قافلہ میں ایرپورٹ سے روانہ ہوگئے تھے۔ حکام نے بتایا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دھماکہ ایک خودکش بمبار نے کیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے بتایا کہ دھماکہ میں 10 افراد ہلاک اور چند افراد زخمی ہوگئے۔ کابل پولیس کے ترجمان حشمت استانیک زئی نے کہا کہ دھماکہ طیران گاہ کے مرکزی باب الداخلہ کے نزدیک ہوا جہاں پر دوستم کے حامی ان کے استقبال کیلئے انتظار کررہے تھے۔ کیونکہ ان کا موٹر کاروں کا قافلہ اس راستہ سے گزرتے ہوئے سٹی سنٹر جانے والا تھا۔ انہوں نے بتایا ’’ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ دھماکہ دوستم کے قافلہ کے ایرپورٹ سے چلے جانے کے ساتھ ہی ہوا‘‘ دوستم جو افغانستان کی کسی دور کی خون ریز سیاست کے نسلی ازبک قائد ہیں زخمی ہونے سے بچ گئے اور انہوں نے اپنے دفتر کے احاطہ میں ایک ریالی میں حامیوں کو مبارکباد پیش کی۔ کابل میں پرتشدد سیاسی فضاء کے بڑھ جانے کے پیش نظر قصر صدارت کے آس پاس کے علاقہ کو دوستم کی آمد کی پیش نظر بند کردیا گیا تھا اور سڑکوں پر بھاری تعداد میں سیکوریٹی ملازمین موجود تھے۔ دوستم کو 2016 کے دوران ان کے محافظین کی جانب سے ان کے سیاسی حریف احمد عشقی کو پکڑ لیے جانے اور اذیتیں پہونچائی جانے کی اطلاعات کے بعد عطیہ دہندگان ممالک کے جن میں امریکہ بھی شامل ہے غیض وغضب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی دوران موصولہ ایک اطلاع میں بتایا گیا کہ کابل ایرپورٹ پر ہونے والے خودکش بم دھماکہ میں 11 افراد ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء قاہرہ سے موصولہ رائٹر کی اطلاع کے بموجب آئی ایس نے بتایا کہ ایک خودکش بمبار نے آج کابل ایرپورٹ کے قریب نائب صدر افغانستان کو نشانہ بنایا۔ گروپ کی خبر رساں ایجنسی عمق کے بموجب بمبار نے دوستم کے استقبال کیلئے منعقدہ ایک تقریب میں اپنی خودکش جیاکٹ کو دھماکہ سے اڑادیا لیکن کوئی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

جواب چھوڑیں