کانگریس معنویت سے عاری۔چھتیس گڑھ کے چیف منسٹرسے مقابلہ کرنے اجیت جوگی کا اعلان

چھتیس گڑھ کے پہلے چیف منسٹر اجیت جوگی نے آج کانگریس کو بے محل اور فرسودہ قراردیتے ہوئے ان تاثرات کو مسترد کردیا کہ وہ بی جے پی کی بی ٹیم ہیں۔ اُنہوںنے بتایاکہ وہ اور اُن کی پارٹی موجودہ چیف منسٹر رامن سنگھ سے آنے والے ریاستی ا نتخابات میں مقابلہ کر ے گی۔ اُنہوںنے بتایاکہ اگر وہ بی ٹیم ہوتے تو چیف منسٹر کے انتخابی حلقہ راج نند گائوں سے انتخابی مقابلہ نہیں کرتے اگر وہ بی ٹیم ہوتے تو اُنہیں قتل کے بے بنیاد کیسس کا سامنا نہیں ہوتا۔اُنہوںنے بتایاکہ اُن کیخلاف ڈکیتی کا جھوٹا مقدمہ بھی درج نہیں کیا جاتا۔ اُنہوںنے بتایاکہ اُن کے لڑکے کو قتل کی سازش رچانے کے الزامات کا سامنا ہے ، اگر وہ بی ٹیم ہوتے تو یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ اُنہوںنے یہاں ایک انٹرویو میں پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی۔ جوگی نے بتایاکہ اُنہیں عدلیہ پر اعتماد ہے کہ اُن کے اور اُن کے لڑکے کیخلاف جوکچھ بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں اُنہیں برخواست کردیا جائے گا۔ اُنہوںنے یہ بھی بتایاکہ مہا گٹھ بندھن( مخالف بی جے پی)کی 2019عام ا نتخابات میں ضرورت ہے لیکن اِس سال کے اوائل ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے ایسا نہیں۔ اِس سوال پر کہ آیا بی ایس پی اور کانگریس کا مجوزہ اتحاد ریاست میں اُن کی پارٹی کے مفاد کیلئے نقصاندہ ہوگا۔ سابق عہدیدار سے سیاستداں بنے جوگی نے بتایاکہ اِس قسم کا اتحاد تاحال وجود میں نہیں آیا ہے اور اُن کی پارٹی پھر ایک مرتبہ ایسے حالات کیظہور کی صورت میں اُن کا جائزہ لے گی۔ جوگی نے بتایاکہ اِس بات کو دیکھنا چاہئے کہ بی ایس پی۔ کانگریس اتحاد ہوگا یا نہیں۔ مستقبل کے پروگرام کا فیصلہ صرف اُسی وقت ہوگا۔ چند فوائد اور نقصانات اِس ضمن میں ہوسکتے ہیں لیکن جب بھی اِس قسم کا اتحاد ہوتا ہو تو اس کا جائزہ لیں گے۔ اس وقت ہم انتخابات میں تمام نشستوں کیلئے مقابلہ کررہے ہیں۔ دہلی سے مقابلہ پر کانگریس اور بی جے پی دونوں پر تنقید کرتے ہوئے اُنہوںنے بتایاکہ ضرورت ہے کہ آج چھتیس گڑھ کیلئے ریاست پر مرکوز طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ اُنہوںنے بتایاکہ اِس بات کے علاوہ کانگریس کی کوئی مخالفت نہیں کہ اس قومی جماعت کے تمام فیصلے دہلی میں کئے جاتے ہیں۔ اُنہوںنے بتایاکہ ہم چاہتے ہیں کہ چھتیس گڑھ کے تمام مسائل کی خود ریاست میں ہی یکسوئی ہو۔ اُنہوںنے بتایاکہ اُن کی سب سے بڑی حریف جماعت بی جے پی ہے۔

جواب چھوڑیں