ہریتا ہارم پروگرام کیلئے منریگا فنڈ استعمال کرنے کی ہدایت:چیف منسٹر کے سی آر

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عہدیداروں کو تلنگانہ ہریتا ہارم پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لئے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گیارنٹی ایکٹ (منریگا) کی رقومات استعمال کرنے کی ہدایت دی۔ آج پرگتی بھون میں ہریتا ہارم پروگرام پر عمل آوری کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ اس پروگرام پر عمل آوری کیلئے زرعی مزدوروں کے ذریعہ ایکشن پلان تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ شجرکاری کے عمل سے پیڑوں کے بڑے ہونے تک کے کاموں اور ان کی دیکھ بھال کیلئے مزدوروں کی خدمت حاصل کرنا ضروری ہے اور اس کام کے لئے تفصیلی پراجکٹ رپورٹ تیار کی جانی چاہئے۔ پرگتی بھون میں منعقدہ اس اجلاس میں ریاستی وزرأ کے ٹی راما راؤ، جوپلی کرشنا راؤ، چیف سکریٹری ایس کے جوشی، پرنسپل سکریٹری، پنچایت راج وکاس راج، کمشنر نیتو پرساد، سکریٹری ٹو چیف منسٹر سمیتا سبھروال، اسپیشل سکریٹری ٹو چیف منسٹر بھوپال ریڈی و دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نئے تشکیل شدہ کے بشمول پنچایت اداروں کی جملہ تعداد 12751 ہے، ہر پنچایت کو ایک یونٹ تصور کرتے ہوئے یونٹ نرسریز کو ترقی دینی ہوگی۔ ہرنرسری میں پودوں کو تیار رکھنا چاہئے۔ اس کے علاوہ مزدوروں کے ذریعہ پودوں کی تقسیم، گڑھے کھودنے، پودے لگانے، پانی ڈالنے نیز دیکھ بھال کے کام انجام دئے جانے چاہئے چونکہ قومی طمانیت روزگار اسکیم کے تحت روزگار فراہم کرنے کیلئے پروگرامس منعقد کئے جاتے ہیں۔ اس لئے ہریتا ہارم پروگرام پر عمل آوری کے لئے زرعی مزدوروں کی خدمات سے استفادہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس طرح طمانیت روزگار اسکیم کے فنڈس کا استعمال کرنا مفید رہے گا۔ اس کام کے لئے ایکشن پلان، ڈی پی آر تیار کرنا چاہئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کتنی رقومات استعمال کی جاسکتی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پیڑوں کی کٹائی سے جنگلات میں جو سبزہ ختم ہوگیا ہے، ہریتا ہارم پروگرام کے ذریعہ وہی شرح سبزہ حاصل کرنا حکومت کا مقصد ہے۔ کے چندر شیکھر راو نے کہا کہ جنگلاتی علاقہ میں کمی کے باعث انسان کو بے شمار پریشانیوں کا سامنا ہے۔ انسانی زندگی قابل رحم ہوچکی ہے۔ بندر جو جنگلی پھلوں پر زندگی بسر کررہے تھے، دیہاتوں کا رخ کرنے لگے ہیں اور فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بعض اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ بندر باورچی خانوں میں بھی داخل ہوکر پکوان کی اشیاء کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ سب جنگلاتی علاقہ میں کمی کا سبب ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے۔ انہوں نے 25 فیصد پھل دار پودے لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔

جواب چھوڑیں