الور واقعہ ، مودی کا نیا بربری ہندوستان بے نقاب : راہول

راجستھان کے ضلع الور میں ہجومی تشدد کے حالیہ واقعات پر نریندر مودی حکومت کو نشانۂ تنقید بناتے ہوئے کانگریس صدر راہول گاندھی نے آج کہا کہ یہ واقعہ ’’مودی کے نئے بربری ہندوستان کو بے نقاب کرتا ہے‘‘ ان اخباری اطلاعات کو منسلک کرتے ہوئے جن میں کہا گیا تھا کہ پولیس ملازمین پہلے گایوں کو گاؤشالہ لے گئے تھے اور ہجومی تشدد کے متاثر ہاسپٹل منتقل کرنے سے قبل چائے نوشی کی تھی ، راہول گاندھی نے ٹوئٹر پر کہا کہ پولیس ملازمین کو شدید زخمی رکبر خان کو ہاسپٹل پہنچانے تین گھنٹے لگے ، جو محض 6 کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ آخر انہوں نے راستہ میں چائے نوشی کا وقفہ کیوں لیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مودی کا نیا ’’بربری ہندوستان‘‘ ہے ، جہاں انسانیت کو نفرت سے تبدیل کردیا گیا ہے اور عوام کو روند کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ ہریانہ کے ساکن 28 سالہ رکبر خان کو الور کے رام گڑھ علاقہ میں ہجوم نے گایوں کی اسمگلنگ کے شبہ پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا ۔ یہ واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا ۔ اخباری اطلاعات میں عینی شاہدین کے حوالے سے کہا گیا ۔ پولیس شدید زخمی رکبر خان کو ہاسپٹل پہنچانے کے بجائے پہلے گایوں کو گاؤشالہ منتقل کیا ۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس زخمی کو پہلے پولیس اسٹیشن لے گئی اور اسے ایک مقامی مرکز ِ صحت میں شریک کرنے سے قبل اسے مار پیٹ بھی کی۔ ہاسپٹل پہنچنے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس نے ہاسپٹل کے راستہ میں چائے نوشی کی اور ہجوم کے حملہ کے تقریباً 4 گھنٹے بعد زخمی کو ہاسپٹل پہنچایا۔ کانگریس ارکان نے جن میں الور کے رکن پارلیمنٹ کرن سنگھ یادو بھی شامل ہیں ، آج لوک سبھا میں ہجومی تشدد کا مسئلہ اٹھایا ۔

جواب چھوڑیں