الور واقعہ‘ ایک پولیس عہدیدار معطل‘ 3جوانوں کا تبادلہ

راجستھان پولیس نے آج رکبر عرف اکبر خان کو اسپتال لیجانے میں ’’ تاخیر‘‘ پر ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو معطل اور 3 کانسٹبلوں کا تبادلہ کردیا ۔ اکبر خان کو ایک ہجوم نے گذشتہ جمعہ کی رات کو گائی کی اسمگلنگ کے شبہ پر مارمار کر شدید زخمی کردیا تھا ۔ اکبر خان بعد میں اسپتال میں جانبر نہ ہوسکے۔سرکاری عہدیداروں نے یہ با ت بتائی اور کہاکہ ایک ویڈیو میں‘ جو وائرل ہوگیا ہے‘ مذکورہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر موہن سنگھ کو مبینہ طورپر اپنی ’’ غلطی‘‘ کا اقبال کرتے ہوئے دکھایاگیاہے۔ موہن سنگھ کو رام گڑھ پولیس اسٹیشن پر متعین کیا گیا تھا۔ مذکورہ ویڈیو میں موہن سنگھ کو یہ کہتے ہوئے سناگیاہے کہ ’’ میرے سے غلطی ہوگئی کیسے بھی مان لو سزاء دے دو یا چھوڑ دو سیدھی سی بات ہے‘‘۔ 28سالہ اکبر خان کو اسپتال لیجانے میں تاخیر کی تحقیقات کیلئے راجستھان پولیس نے ایک 4رکنی کمیٹی تشکیل دی ۔ اِس کمیٹی نے اے ایس آئی کو معطل کردیا اور 3کانسٹبلوں کا تبادلہ پولیس لائنس میں کردیا۔ اسپیشل ڈی جی پی( لاء اینڈ آرڈر ) این آر کے ریڈی نے الور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی اور کہاکہ ’’ صورتحال سے نمٹنے کی کوششوں کے تعلق سے فیصلہ کرنے میں غلطی ہوئی۔ اِس طرح راجستھان پولیس نے ’’ فیصلہ کی غلطی‘‘ کو تسلیم کرلیا۔ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ صورتحال سے‘ جلد نمٹنے میں غلطی ہوئی‘‘۔ مذکورہ کمیٹی ‘ اسپیشل ڈی جی پی( لاء اینڈ آرڈر) کے این آر کے ریڈی ایڈیشنل ڈی جی پی(سی آئی ڈی۔ کرائم برانچ) پی کے سنگھ ‘ انسپکٹر جنرل ( جئے پور رینج) ہیمنت پریہ درشی اور ریاستی افسر رابطہ (گائو چوکسی)مہندرسنگھ چودھری پر مشتمل ہے۔ ریاستی ڈی جی پی اوپی گلہوترا نے یہ بات بتائی۔ مذکورہ تحقیقات‘ اُن مجموعی تحقیقات کے علاوہ ہیں جو ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے درجہ کے حامل عہدیدار تفویض کی گئی ہیں۔ اسی دوران گذشتہ شنبہ کو 2افراد دھرمیندریادو اور پرمجیت سنگھ کو گرفتار کیا گیا ۔ تیسرے ملزم نریش سنگھ کو کل پکڑاگیا اور اب یہ ملزمین ‘ 5روز کیلئے پولیس تحویل میں ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس(الور) راجندر سنگھ نے بتایاکہ ’’ بعض ایسے الزامات ہیں کہ مقامی پولیس نے خان کو مارپیٹ کی تھی اور اُنہیں اسپتال لیجانے میں تاخیر کی تھی اِن الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اِن الزامات کے بعد کہ اکبر خان کو رام گڑھ کمیونٹی ہیلتھ سنٹر لیجانے میں پولیس نے تقریباً تین چار گھنٹوں کی تاخیر کی ‘ مذکورہ ویڈیو منظر عام پر آیا جس میں اے ایس آئی موہن سنگھ نے اپنی غلطی کااقبال کیا۔پولیس اور اسپتال کے ریکارڈس کے بموجب مارپیٹ کے مذکورہ واقعہ کی اطلاع پولیس کو‘ گذشتہ جمعہ کی رات کو 12بجکر 41منٹ پر یعنی (گذشتہ شنبہ کی صبح کی اولین ساعتوں میں) دی گئی۔ پولیس ‘ مذکورہ مقام پر رات ایک بجکر 15منٹ پر پہنچی ۔ مقام وارادات سے اسپتال‘ تقریباً 4کلو میٹر دور ہے لیکن پولیس ‘ خان کے ساتھ علی الصبح 4بجے اسپتال پہنچی جہاں خان کو مردہ قراردیاگیا۔ آج دن میں وزیر داخلہ راجستھان گلاب چند کٹاریہ نے کہاکہ اگر پولیس کی جانب سے کوئی غفلت ہوئی ہو تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔ ’’ 3-4ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ پولیس‘ خان کو پولیس اسٹیشن لے گئی تھی اور پھر 3گھنٹے بعد خان کو اسپتال لے گئی ‘ میں نے ڈی جی پی سے خواہش کی ہے کہ اِس معاملہ کی جانچ پڑتال کیلئے ایک کمیٹی بھیجی جائے‘‘۔ تاہم اسی دوران ناگور کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ سی آر چودھری نے پولیس کی مدافعت کی ہے اور کہا ہے کہ پولیس کو نشانہ بنانا ’’ مناسب نہیں‘‘ ہے۔(سلسلہ صفحہ 3پر)

جواب چھوڑیں