امریکہ کو دھمکی دینے کیخلاف ٹرمپ کا ایران کو انتباہ

صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ہم منصب حسن روحانی کو امریکہ کے خلاف دھمکیاں دینے پر انتباہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ ایرانی سفارتکاروں کی تقریب میں روحانی نے بتایا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتاہے لیکن وہ جنگ سے پیچھے بھی نہیں ہٹے گا ۔ ایف ای نیوز رپورٹ میں یہ بات بتائی ۔ ٹرمپ نے کل دیر گئے اپنے ٹوئٹر پیام میں روحانی کو متنبہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہرگز کبھی بھی آپ امریکہ کو دھمکی نہ دیں بصورت دیگر آپ کو ایسے نتائج کا سامنا ء ہوگا کہ جیسا کہ تاریخ چند ہی ممالک کو ہواہے ۔ صدر روحانی نے کل کہا تھا کہ امریکہ شیر کی دم کے ساتھ کھلنے کی کوشش نہ کرے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے صدر روحانی کے نام ایک براہ راست ٹویٹ پیغام میں کہا،’’ امریکہ کو دوبارہ کبھی دھمکی دی گئی تو تہران کو وہ نتائج بھگتنے پڑیں گے جن کا سامنا تاریخ میں چند ایک ہی نے کیا ہو گا۔‘‘گزشتہ روز صدر روحانی نے ایرانی سفارت کاروں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ شیر کی دْم سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے۔ٹرمپ نے صدر روحانی کے نام اپنے ٹویٹ میں صرف بڑے حروف کا استعمال کیا۔ٹرمپ نے مزید لکھا،’’امریکہ وہ ملک نہیں جو زیادہ عرصے تک ’دیوانگی‘ میں کہے گئے آپ کے پْر تشدد الفاظ کو برداشت کرے گا۔‘‘اس سے قبل ایسے تند و تیز مکالمات کا تبادلہ ٹرمپ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اْن کے ساتھ بھی کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ دونوں لیڈران کی گزشتہ ماہ ایک تاریخی سمٹ میں ملاقات تک جاری رہا تھا۔مبصرین کے خیال میں شمالی کوریا سے مصالحت کے بعد اب ایران صدر ٹرمپ کا پسندیدہ ہدف بن گیا ہے۔رواں برس مئی کے مہینے میں امریکہ نے ایران کے ساتھ کیے گئے ایک جوہری معاہدے سے باہر نکلتے ہوئے اس پر دو مرحلوں میں اقتصادی پابندیاں بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔ان پابندیوں میں ایسی یورپی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، جو ایران میں بزنس کر رہی ہیں اور ساتھ ہی ایران کی عالمی منڈی میں تیل کی فروخت کو بھی رکوانے کی کوشش کی جائے گی۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکہ ایران پر عائد تازہ پابندیاں اس صورت میں ختم کر دے گا اگر وہ اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام اور یمن سے شام تک علاقائی تنازعات میں اپنی مداخلت بند کر دے۔اس پر صدر روحانی نے اپنے گزشتہ روز کے خطاب میں کہا،’’ آپ ایرانی عوام کے جذبات کو اْن کے ملکی مفادات اور سلامتی کے خلاف ابھار نہیں سکتے۔‘‘دو روز قبل ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات ایک فاش غلطی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کو کوشش کرنا چاہیے کہ وہ دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائے، تاہم اس فہرست میں امریکہ کو شامل نہیں کرنا چاہیے۔علحدہ اطلاع کے بموجب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے امریکہ کو دھمکانے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ایرانی صدر کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مزید دھمکیاں برادشت نہیں کرے گا۔ حسن روحانی نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کی تو وہ ’تمام جنگوں کی ماں‘ ہو گی۔ حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں