اے پی کو خصوصی موقف کامطالبہ۔پارلیمنٹ کے احاطہ میں تلگودیشم اور وائی ایس آرکانگریس کا احتجاج

آندھراپردیش تنظیم نوبل میں کئے گئے وعدوں بشمول ریاست کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست کی حکمران جماعت تلگودیشم کے ساتھ ساتھ اصل اپوزیشن وائی ایس آرکانگریس پارٹی کے ایم پی نے پارلیمنٹ میں گاندھی جی کے مجسمہ کے قریب احتجاج کیا ۔ان ارکان پارلیمنٹ نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھام کر نعرے بازی کی اور اے پی کو خصوصی درجہ کے ساتھ ساتھ وشاکھاپٹنم میں ریلوے زون کے قیام ، کڑپہ میں اسٹیل فیکٹری کے قیام پر زور دیتے ہوئے ریاست سے انصاف کامطالبہ کیا۔ان ایم پی نے اے پی کو بچانے پر زور دیا۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وائی ایس آرکانگریس کے رکن راجیہ سبھا وجئے سائی ریڈی نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی نے مرکز کی جانب سے ریاست کو خصوصی پیکیج اور مالی مدد کی فراہمی کے اعلان پر ریاستی اسمبلی میں شکریہ کی قرارداد پیش کی تھی لیکن اب اس سے انحراف کرتے ہوئے ریاست کو خصوصی درجہ کی بات کی جارہی ہے ۔تلگودیشم کے رکن پارلیمنٹ جی جے دیو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیراعظم نے تلگودیشم کی تحریک عدم اعتماد کے موقع پر اٹھائے گئے مسائل میں سے ایک مسئلہ پربھی بات نہیں کی اورنہ ہی انہوں نے کسی بھی شبہ کو دور کیا۔تلگودیشم پارٹی چاہتی ہے کہ اے پی سے متعلق تمام مسائل حل کئے جائیں ۔ان کے پاس سوائے احتجاج کے کوئی اور راستہ نہیں ہے ۔تلگودیشم پارٹی کے ایک اور رکن پارلیمنٹ مرلی موہن نے الزام لگایا کہ وزیراعظم اور وزیرداخلہ نے تحریک عدم اعتماد کے موقع پر ایک بھی سوال کا مناسب جوا ب نہیں دیا۔

جواب چھوڑیں