رواں سال دونوں ریاستوں سے 60ہزار کروڑ ٹیکس وصولی کا نشانہ: چودھری

محکمہ انکم ٹیکس نے رواں مالیاتی سال 2018-19کے دوران دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش سے 60,845کروڑ روپئے ٹیکس وصولی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ گذشتہ مالیاتی سال کے بہ نسبت اس سال ٹیکس وصولی کی شرح 20فیصد زائد مقرر کی گئی ہے۔ گذشتہ سال انکم ٹیکس میں اضافہ درج کیا گیا۔ کارپوریٹ سیکٹر اور نیشنل منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایم ڈی سی) جو ایک پبلک سیکٹر انٹرپرائز ہے‘ نے 2259کروڑ روپئے ٹیکس ادا کئے تھے۔ گذشتہ مالیاتی سال (2017-18) کے دوران سب سے زیادہ 49,775کروڑ روپئے وصول کئے گئے تھے۔ پرنسپل چیف کمشنر محکمہ انکم ٹیکس (اے پی اور تلنگانہ) شیام پرساد چودھری نے پیر کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ 24جولائی کو منائے جانے والے انکم ٹیکس ڈے کے موقع پر اس پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال 8.13لاکھ نئے ریٹرنس وصول ہوئے تھے تاہم رواں مالیاتی سال توقع ہے کہ 10.13لاکھ نئے ریٹرنس داخل کئے جائیں گے۔ رواں مالیاتی سال میں آج کی تاریخ تک ہم 14.8فیصد ٹیکس وصول کرچکے ہیں جبکہ قومی سطح پر ٹیکس وصولی کی شرح 6.8فیصد ہے۔ گذشتہ مالیاتی سال 49,775کروڑ روپئے بطور ٹیکس وصول کئے گئے تھے ان میں کارپوریٹ شعبہ نے 24,242کروڑ روپئے ٹیکس ادا کیا ہے۔ اس شعبہ کی 17کمپنیاں ایسی ہیں جنہوں نے ایک سو کروڑ سے زائد (ہر ایک کمپنی) ٹیکس داخل کیا ہے۔ چودھری نے بتایا کہ 4سیکٹرس‘ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان میں مینوفیکچرنگ (فارما اور دیگر) آئی ٹی اینڈ آئی ٹی ای ایس اور بینکس شامل ہیں۔ گذشتہ مالیاتی سال آندھرا بینک ٹیکس ادائیگی میں دوسرا بڑا ادارہ تھا۔ تروپتی کا ادارہ امرا راجہ 237کروڑ اور بی ڈی ایل 168کروڑ کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چوتھے مقام پر رہے۔ حیدرآباد کی مشہور دواساز کمپنی ڈاکٹر ریڈی لیاب لمیٹیڈ 161کروڑ روپئے ٹیکس ادا کرچکی ہے۔ چودھری نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے ایک کروڑ پان کارڈ کے حامل افراد میں سے صرف 30لاکھ نے ٹیکس ادا کئے ہیں۔ جعلی پان کارڈ رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ انکم ٹیکس‘ غیر کارکرد اور جعلی پان کارڈز کا پتہ لگانے کی مہم شروع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے نامی املاک (جائیداد) معاملات قانون کے مطابق 83املاک کو قرق کرلیا گیا ہے۔ جون کے اواخر تک 108کیسوں میں نوٹیسیں جاری کی جاچکی ہیں۔ یہ نوٹسیں بلیک منی قانون کے تحت دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالیاتی سال 2017-18کے دوران 38دھاوے کئے گئے اور 40.95کروڑ روپئے ضبط کئے گئے۔ رواں مالیاتی سال میں اب تک 11‘ دھاوے کئے گئے اور 14.28کروڑ روپئے ضبط کئے جاچکے ہیں۔ چودھری نے کہا کہ سال 2017-18کے دوران دھاوے کے دوران ٹیکس دہندگان نے غیر معلنہ آمدنی کا انکشاف کیا اور ان سے 1166.97کروڑ روپئے ضبط کرلئے گئے جبکہ رواں سال اب تک 285.70کروڑ روپئے ضبط کئے جاچکے ہیں۔ گذشتہ سال عدالتوں سے 7‘ گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے گئے‘ ان میں تین وارنٹس‘ ٹیکس نا دہندگان سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 24جولائی کو منائے جانے والے انکم ٹیکس ڈے پروگرام میں ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن مہمان خصوصی ہوں گے جبکہ این ایم ڈی سی کے صدرنشین وایم ڈی‘ این بائیچندر‘ امرراجہ بیاٹریز لمیٹیڈ کے صدرنشین رامچندرا این گالا اور بی ڈی ایل کے صدرنشین وایم ڈی‘ وائی اودئے بھاسکر مہمانان اعزازی کے طورپر اس پروگرام میں شرکت کریں گے۔

جواب چھوڑیں