سعودی عرب اور امارات کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش جاری :صدر حسن روحانی

ایرانی کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے اور تعلقات کو معمول پرلانے کی کوشش کررہا ہے۔ذرائع کے مطابق ایرانی سفارت کاروں کے ایک اجلاس سے خطاب میں صدر روحانی نے ملک کو درپیش حالات کے تناظر میں علاقائی قوتوں سے تعلقات بہتر بنانے کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ایرانی صدر کی طرف سے تین خلیجی ملکوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے لیے مقرر کردہ چار اگست کی تاریخ قریب آ رہی ہے۔صدر روحانی نے امریکی صدر کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکا کی ایران پر پابندیوں کا مقصد ایرانی نظام کا سقوط اور ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔ایرانی صدر نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہ کہ “جس کو سیاست کی ذرا بھی سمجھ بوجھ ہو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم ایرانی تیل کی برآمد کو روک دیں گے۔ ہمارے پاس بہت سے راستے ہیں جن میں سے ایک آبنائے ہرمز بھی ہے۔روحانی نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ عسکری مقابلے کے حوالے سے کہا کہ یہ “جنگوں کی ماں” ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ وقت میں واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کرنا ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنا شمار ہو گا۔امریکی پابندیوں کا پہلا مرحلہ چار اگست سے شروع ہو گا جب واشنگٹن گاڑیوں، سونے اور دیگر مرکزی سیکٹروں پر پابندیاں عائد کرے گا۔ اس کے بعد چھ نومبر کو پابندیوں کا زیادہ سخت مرحلہ آئے گا اور ایرانیوں کے تیل اور گیس کی برآمدات کو روک دیا جائے گا۔ ساتھ ہی ان دونوں سیکٹروں میں ایران کے ساتھ معاملات کرنے والی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

جواب چھوڑیں