مجوزہ اعلی تعلیمی کمیشن بیوروکریسی کا اکھاڑہ نہیں بنے گا : جاؤدیکر

ملک کے تعلیمی نظام میں ’آزاد فکر‘ کا ماحول برقرار رکھنے کے تئیں حکومت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر پرکاش جاودیکر نے لوک سبھا میں پیر کو دعوی کیا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے مقام پر مجوزہ اعلی تعلیمی کمیشن کو کسی بھی طرح سے بیوروکریسی کا اکھاڑا بننے نہیں دیا جائے گا۔ جائودیکر نے ایک سوال کے دوران ترنمول کانگریس کے شگتو بوس کی خدشات کو دور کرتے ہوئے کہا کہ یو جی سی کا مقام لینے والا اعلی تعلیمی کمیشن کسی بھی قسم سے نوکرشاہوں کا اکھاڑانہیں بنے گا۔انہوں نے اناڈی ایم کے رکن ایم تھمبی دورائی کے ان الزامات کو بھی سرے سے مسترد کر دیا کہ مودی حکومت یو جی سی کی جگہ پر ایک ایسا کمیشن قائم کرے گی جس میں نوکرشاہوں کے ذریعے حکومت کا براہ راست تسلط ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ کمیشن میں گرانٹ اور ریگولیشن کی ذمہ داری علیحدہ رکھی جائے گی۔ جاودیکر نے کہا کہ یو جی سی کا قیام 1956 میں جب ہوا تھا اس وقت ملک میں صرف 20 یونیورسٹی، 500 کالج اور دو لاکھ 10 ہزار طالب علم تھے جبکہ آج یونیورسٹیوں کی تعداد 900 کالجوں کی 40000 اور طلباء کی تعداد تین کروڑ 45 لاکھ تک پہنچ گئی ہے ایسی صورتحال میں یو جی سی کو تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مجوزہ اعلی تعلیمی کمیشن بل کے مسودے پر کم از کم 10 ہزار مشورے آئے تھے، جن کی بنیاد پر بل کو وسیع تبدیلی کے ساتھ لایا جائے گا۔

جواب چھوڑیں