چندرائن گٹہ حملہ کیس:حسن بن عمریافعی‘عبداللہ اورعودبن یونس یافعی کی ضمانت منظور

حیدرآبادہائی کورٹ کے جج جسٹس بی شیوشنکر رائو نے چندرائن گٹہ کے ایم ایل اے اکبر الدین اویسی پرحملہ کے کیس کے تین ملزمین حسن بن عمریافعی ‘ عبداللہ بن یونس یافعی اورعودبن یونس یافعی کو ضمانت پررہاکرنے کی درخواست کومنظورکرتے ہوئے انہیں فی کس 50ہزارروپے کی 2ضمانتیں داخل کرنے اور 15دن میں ایک مرتبہ متعلقہ پولیس اسٹیشن میں حاضری دینے کے لئے پابند کیا۔ اس کیس میں مذکورہ تین ملزمین کے علاوہ محمد بن وھیلان کوساتویں ایڈیشنل میٹروپولٹین سیشن جج نامپلی کورٹ نے گذشتہ سال 29مئی 2017کوفیصلہ صادرکرتے ہوئے 10 سال کی قیدکی سزاسنائی تھی اور اس کیس میں محمد بن عمرالیافعی (محمدپہلوان) کے بشمول 9ملزمین کومعززجج نے باعزت بری کردیا تھا ۔ جس کے بعدحسن بن عمریافعی اور دیگر 3ملزمین نے اس سزاکے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جہاں محمدبن وھیلان ضمانت پر رہاہوگئے تھے ۔ حسن بن عمر یافعی ودیگر 2ملزمین کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ محمد مظفر اللہ خان شفاعت نے پیروی کی ۔ واضح رہے کہ چندرائن گٹہ میں اکبراویسی پرحملہ کاواقعہ 30اپریل 2011کوپیش آیا تھا۔ اس واقعہ میں گن مین کی فائرینگ میں ابراہیم یافعی کی موت واقع ہوگئی تھی ۔ اس حملہ میں اکبرالدین اویسی شدیدزخمی ہوگئے تھے ۔ چندرائن گٹہ پولیس نے محمدپہلوان ودیگر13 ملزمین کے خلاف اقدام قتل ‘آرمس ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیاتھا ۔ بعدازاں یہ کیس سی سی ایس کو منتقل کیاگیا تھا ۔ سی سی ایس نے تحقیقات کے بعدعدالت میں چارج شیٹ پیش کی تھی ۔ دیڑھ سال سے زائد مدت تک اس کیس کی سماعت کے دوران تقریباً 65گواہوں کے بیانات قلمبند کے گئے تھے۔ کیس کے فیصلہ سے قبل محمدپہلوان اوردیگر کوتقریباً 6سال جیل میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرناپڑاتھا۔ فیصلہ کے چند ماہ بعد یونس بن عمریافعی جو باعزت بری ہوگئے تھے‘ علالت کے باعث ان کا انتقال ہوگیا ۔ حسن بن عمر یافعی ‘عبداللہ بن یونس یافعی چرلہ پلی جیل میں ہیں جبکہ عودبن یونس یافعی ورنگل کی جیل میں ہیں۔ 24جولائی کو نامپلی کورٹ میں ضمانتوں کی تکمیل کے بعد جیل سے ان کی رہائی عمل میں آئے گی۔ حسن بن عمریافعی ‘ محمدپہلوان کے چھوٹے بھائی ہیں جبکہ عبداللہ اورعودیافعی ان کے بھتیجے ہیں ان کی ضمانت پررہائی کے لئے ہائی کورٹ کے احکام پرمسرت کا اظہار کرتے ہوئے محمدپہلوان نے اللہ تعالیٰ کاشکربجالایا اورکہاکہ ان کی لڑکی کی شادی کے دوروز قبل بھائی اوربھتیجوں کی رہائی اللہ تعالیٰ کابڑا کرم ہے ۔ سارے خاندان میں خوشی ومسرت کی لہردوڑگئی ۔

جواب چھوڑیں