اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔اقوام متحدہ اور مصر کی کوششیں

اقوام متحدہ اور مصر کی شدید سفارتی کوششوں سے غزہ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک اور جنگ سے بچاؤ میں مدد ملی جس کے لے گذشتہ ہفتہ بہت ہی کم وقت باقی تھا ۔ ایک سینئر اقوام متحدہ عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ اقوام متحدہ اور مصر کی سرگرم کوششوں کے بعد وہ اس بات کی رپورٹ دے سکتے ہیں کہ حالت پرسکون ہورہے ہیں اگرچیکہ کشیدگی اس وقت بھی باقی ہے ۔ اقوام متحدہ کے خصوصی عہدیدار رابطہ برائے مشرقی وسطی امن کاروائی نیکولے نے کل یروشلم سے ویڈیو رابطہ کے ذریعہ سلامتی کونسل کو یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ہفتہ اسرائیل اور حماس کے دوران غزہ میں دوسری تباہ کن جنگ سے بہت قریب تھے ۔ اس مقام پر اسرائیل کی سرحد اور بحر روم بھی موجود ہے جبکہ اس پر فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کا 2007 سے کنٹرول ہے ۔ اسرائیل نے غزہ سے فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر امتناع عائد کردیاگیاہے ۔ اقوام متحدہ ذرائع نے بتایا کہ اس کا بنیادی سبب وہاں پر ناقابل کنٹرول ٹکراؤ رہاہے جس میں اسرائیل اور فلسطینی علاقہ کا 50 سال سے زائد قبضہ بھی شامل ہے اور ساتھ ہی ساتھ غزہ کا ایک سال طویل ناکہ بندی اور حماس کی جانب سے اس علاقہ پر مسلسل کنٹرول کے علاوہ فلسطین کی دو سیاسی گروپس فتح اور حماس میں تقسیم بھی شامل ہے ۔ غزہ کے اطراف و اکناف کے واقعات پر سلامتی کونسل کو نکولے نے بتایا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران حالات تیزی سے بے قابو ہوگئے تھے اور ایک ایسے مرحلہ پر پہنچ گئے جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ کے دوران حالیہ عرصہ کے دوران 2014 اسرائیل ۔ غزہ تصادم کے بعد سے شدید ترین کشیدگی دیکھی گئی ۔ 19 فلسطینی بشمول 7 بچے غزہ میں اسرائیلی دفاعی فورسس کے ہاتھوں غزہ میں احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوںاور فضائی حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دیگر ایک ہزار زخمی بھی ہوئے ۔ اسرائیلی دفاعی فوج کا ایک سپاہی بھی گذشتہ ہفتہ غزہ سے کی گئی فائرنگ میں ہلاک ہوا اور دیگر چار اسرائیلی شہری اور اسی فورس کا ایک سپاہی بھی زخمی ہوا جبکہ یہ صورتحال راکٹ فائرنگ اور گرینڈ حملہ کا شاخسانہ تھے ۔

جواب چھوڑیں