ایران کیخلاف امریکی پابندیاں ناقابل قبول :ترکی

ترک وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو نے کل اس بات کو خارج از امکان قرار دیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل کرے گا۔ جس سے نیٹو اتحادیوں کے درمیان تناؤ میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔چاویش اوغلو نے گزشتہ جمعہ انقرہ میں ایک سینیر امریکی عہدیدار سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے انہیں بتا دیا ہے کہ ہم ان پابندیوں میں شریک نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہم ان سے اس بارے میں وضاحت کر رہے تھے کہ ہم ان کی پابندیوں کی تعمیل نہیں کریں گے تو ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ہم ان پابندیوں کو موزوں نہیں سمجھتے۔انقرہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری توانائی پروگرام کے عالمی معاہدے امریکہ کو الگ کرنے کے بعد، ایران کے خلاف پابندیاں لگائے کی مخالفت کرتا ہے۔سخت نوعیت کی امریکی پابندیاں اگست کے آخر تک موثر ہو جائیں گی۔ جب کہ ایران کی تیل کی برآمد پر پابندیوں کا آغاز نومبر سے ہو گا۔ترکی جسے ایندھن کی اشد ضرورت ہے، اپنے تیل اور قدرتی گیس کی ضروریات کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے جب کہ ترک سرمایہ کار اس ملک کی مارکیٹ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔جمعہ کو دہشت گردی سے متعلق مالی امور کے معاون وزیر خزانہ مارشل بیلنگزلی نے انقرہ کا دورہ کیا تھا اور ترک عہدے داروں کے ساتھ اپنی بات چیت کو مثبت قرار دیا تھا۔ترکی کے ایران اور روس کے ساتھ گہرے تعلقات نے اس کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ رابطوں کو دباؤ ڈالا ہے۔ پیر کے روز امریکی کانگریس نے ایف 35 لڑاکا جیٹ طیاروں کی ترکی کو فراہمی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ترکی روس سے ایس 400 میزائل سسٹم خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ترکی تیل اور قدرتی گیس کی ضروریات کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے تاہم امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں توسیع نہ کرنے اور ایران پر اقتصادی پابندی عائد ہونے کے باعث ترکی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ جس کے بعد روس، ترکی اور ایران کی قربتیں بڑھ گئی ہیں اور خطہ میں نئی صف بندی ہونے جارہی ہے۔واضح رہے امریکہ نے ایران جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کرنے اور ایران پر سخت نوعیت کی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی پابندیاں اگست کے آخر تک موثر ہو جائیں گی۔ جب کہ ایران کی تیل کی برآمد پر پابندیوں کا آغاز نومبر سے ہو گا۔

جواب چھوڑیں