لاؤس ڈیم منہدم مہلوکین کی تعداد‘ 19 تک پہنچ گئی، سینکڑوں لاپتہ

لاوس کے دور افتادہ علاقہ میں ڈیم کے منہدم ہوجانے کے بعد 19 افراد کی ہلاکت کی توثیق کردی گئی ہے اور 3000 سے زائد افراد کو بچایا گیاہے ۔ جنوب مشرقی ایشیائی ملک لاؤس میں ایک ڈیم ٹوٹ جانے کے نتیجے میں ایمرجنسی حکام کے مطابق کم از کم انیس افراد ہلاک ہو گئے۔ سینکڑوں دیگر لاپتہ ہیں۔ یہ ڈیم لاؤس کے اتاپیْو صوبے میں زیر تعمیر تھا۔ چھ دیہات پوری طرح زیرآب ہیں۔ ڈیم کا پانی تیرہ سو مکانات میں بھرا ہوا ہے۔ سات ہزار کے قریب باشندے بے گھر بھی ہو گئے۔ آخری خبریں آنے تک تقریباً تین ہزار افراد کو محفوظ علاقوں میں منتقل کیا جا سکا تھا۔ بہت سے مقامی باشندے اپنے پانی میں ڈوبے گھروں کی چھتوں پر امداد کے منتظر ہیں۔ جنوبی کوریا نے لاؤس کے لیے ایک خصوصی امدادی ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔لاوس کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مغرب میں ایک زیرِ تعمیر ڈیم ٹوٹ گیا ہے اور اس کے نتیجے میں کم سے کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ کم سے کم 100 افراد غائب ہیں اور چھ ہزار سے زیادہ افراد سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔لاوس نیوز ایجنسی نے کہا کہ پیر کے روز، آتاپوا صوبے میں ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کا ایک بند ٹوٹ گیا تھا جس سے چھ دیہاتوں میں میں سیلاب کیا۔علاقے سے موصول ہونے والے فوٹیج میں متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو گھروں کے چھتوں پر بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔حادثہ میں متاثرہ افراد کی صحیح تعداد کے بارے میں معلومات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔ فون سگنل علاقے میں کام نہیں کر رہے ہیں۔یہ ایک معاون ڈیم تھا جس کی تعمیر سال 2013 میں شروع ہوئی۔ یہ 90 فیصد تک تیار تھا اور اگلے سال سے اسے پیداور شروع کرنا تھی۔جنوبی کوریا کی کمپنی اس کی انجینئرنگ اور تعمیر کا کام کر رہی تھی۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق بند 16 میٹر تک ٹوٹ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مسلسل بارش کی وجہ سے، اس عارضی ڈیم کی گنجائش سے زیادہ پانی اکٹھا ہو گیا تھا۔ایس کے انجنیئرنگ اور تعمیراتی ترجمان کے مطابق ’ہم ابھی تک صحیح وجوہات نہیں جانتے ہیں، لیکن ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ڈیم کا اوپری حصہ ٹوٹا ہے اور پانی باہر چلا گیا ہے اور سپلائی بند ہو چکی ہے۔‘

جواب چھوڑیں