مسلم پرسنل لابورڈ کویونیفارم سول کوڈ کسی بھی صورت میں قبول نہیں

ا?ل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے واضح کیا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ کسی طرح قبول نہیں ہے اور وہ اسلامی قانون کے غلط استعمال کے خلاف ہے، لیکن اسلام اورشریعت میں کسی طرح کی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے  کہا کہ حلالہ جیسے معاملوں میں بھی غلط استعمال کے خلاف ہے، لیکن حلالہ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ فاروقی نے کہا کہ بچپن کی شادی کو لے کر ہم چائلڈ میریج (بچوں کی شادی) کے خلاف ہیں، لیکن اگرخاندان کو ضرورت ہے تو اجازت ہونی چاہئے۔ کمال فاروقی نے کہا کہ مسلمانوں کو ملک کے قانون کے حساب سے 18 سال کے بعد شادی کو ماننا چاہئے۔ کمال فاروقی نے کہا کہ لڑکی کو وراثت میں نصف حصہ ہندو میریج ایکٹ کا قانون ہے، ملک کا قانون نہیں ہے، مسلم پرسنل لا بھی قانون کا ہی حصہ ہے۔ کمال فاروقی نے کہا کہ بچہ گود لینے کے معاملے میں بھی ان کے اسٹینڈ میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ فاروقی نے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ ہمیں منظور نہیں ہے۔ ہم بحث کرنے کے لئے تیار ہیں اور اکثریتی طبقے میں یونیفارم سول کوڈ کو لے کر کوئی اتحاد قائم ہوجائے تو ہم سے بات کی جائے۔

جواب چھوڑیں