مہسانہ کیس‘ ہاردک پٹیل کو 2 سال جیل کی سزا

گجرات کی ایک عدالت نے چہارشنبہ کے دن پاٹیدار احتجاجی قائد ہاردک پٹیل اور ان کے 2 ساتھیوں کو سال 2015 میں مہسانہ میں بی جے پی رکن اسمبلی کے دفتر میں توڑپھوڑ کے کیس میں 2 سال جیل کی سزا سنائی ۔پاٹیدار نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے مطالبہ پر نکالی گئی ریالی وِش نگر ٹاؤن میں پرتشدد ہوگئی تھی۔ 3 تا 5 ہزار کے ہجوم نے بی جے پی رکن اسمبلی رشی کیش پٹیل کے دفتر پر حملہ کردیا تھا۔ 17 افراد بشمول ہاردک پٹیل پر آتشزنی‘ فساد اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد ہوئے تھے۔ ہاردک پٹیل کی گرفتاری اور ضمانت پر رہائی عمل میں آئی تھی۔ عدالت نے ضلع مہسانہ میں ان کا داخلہ ممنوع قراردیا تھا۔ مہسانہ سے پی ٹی آئی کے بموجب پاٹیدار کوٹہ احتجاجی قائد ہاردک پٹیل اور ان کے 2 ساتھیوں لالجی پٹیل اور اے کے پٹیل کو وِش نگر سیشن کورٹ نے سزا سنانے کے بعدضمانت پر رہا کردیا۔ تینوں پر فی کس 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوا جو انہوں نے آج ہی جمع کرادیا۔ عدالت نے دیگر 14 ملزمین کو رہا کردیا کیونکہ ان کے خلاف ثبوت کافی نہیں تھا۔ جرمانہ کی دیڑھ لاکھ کی رقم میں سے عدالت نے حکم دیا کہ 10ہزار روپے ٹی وی چیانل رپورٹر سریش ونول کو ‘ ایک لاکھ روپے اس کار کے مالک کو جسے ہجوم نے آگ لگائی تھی اور 40 ہزار روپے مقامی بی جے پی رکن اسمبلی رشی کیش پٹیل کو دیئے جائیں۔ مہسانہ ضلع میں 23جولائی 2015 کو درج ایف آئی آر میں 25 سالہ ہاردک کو ملزم بنایا گیا تھا۔ وش نگر میں پٹیل ریزرویشن ریالی پُرتشدد ہوگئی تھی۔ جائیدادوں کو نقصان پہنچا تھا اور بعض میڈیا نمائندوں پر حملے ہوئے تھے۔ یہ ریالی گجرات میں کوٹہ تحریک کا آغاز تھی۔ اس وقت ہاردک‘ جانا پہچانا چہرہ نہیں تھے۔ وہ لالجی پٹیل کے پیادہ سپاہی تھے جو سردار پٹیل گروپ کے صدر تھے۔ وش نگر کی ریالی سے ہی ہاردک کو شہرت ملی تھی۔

جواب چھوڑیں